ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 93 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 93

میرے دعوے کو سوچیں اور میری نسبت کوئی رائے دیتے ہوئے اس بات کا لحاظ رکھیں کہ ہم جو کہتے ہیں خدا تعالیٰ کے خوف سے کہتے ہیں یا اپنے نفسانی اغراض اور جوشوں کو درمیان رکھ کر کہتے ہیں۔اگر خدا ترسی اور تقویٰ سے کام لیتے تو لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ(بنیٓ اسـرآءیل: ۳۷) پر عمل کرتے اور جب تک میری کتابوں کو پورے طور پر نہ پڑھ لیتے اور میرے پاس رہ کر میرے طرزِ عمل کو نہ دیکھ لیتے کوئی رائے نہ دیتے۔مگر انہوں نے قبل ازمَرگ واویلا شروع کردیا اور خدا تعالیٰ کے کلام اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدوں کی کچھ بھی پروا نہ کی۔ان سب کو پس پشت ڈال دیا۔کم از کم تقویٰ کا طریق تو یہ تھا کہ وہ میرے دعویٰ کو سن کر فکر کرتے اور جھٹ پٹ انکار نہ کردیتے۔کیونکہ میں نے ان کو یہ کہا تھا کہ خدا نے مجھے مامور کیا ہے۔خدا نے مجھے بھیجا ہے۔وہ دیکھتے ہیں کہ کیا جس شخص نے اپنا آنا خدا کے حکم سے بتایا ہے وہ خد اکی نصرتیں اور تائیدیں بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے یا نہیں۔مگر انہوں نے نشان پر نشان دیکھے اور کہا کہ جھوٹے ہیں۔انہوں نے نصرت پر نصرت اور تائید پر تائید دیکھی لیکن کہہ دیا کہ سحر ہے۔میں ان لوگوں سے کیا امید رکھوں جو خدا تعالیٰ کے کلام کی بے حرمتی کرتے ہیں۔خدا کے کلام کے ادب کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس کا نام سنتے ہی یہ ہتھیار ڈال دیتے مگر یہ اور بھی شرارت میں بڑھے۔اب خود دیکھ لیں گے کہ انجام کس کے ہاتھ ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ میرے بلانے کے دراصل یہی لوگ محرک ہوئے ہیں اور میری بعثت کے اسباب میں سے یہ بڑا سبب ہیں۔مسلمانوں کے مرتد ہونے کا باعث مولوی ہیں کیونکہ جس قدر لوگ نصرانی اور بے دین ہوئے ہیں وہ دراصل مولویوں کا قصور ہے۔جب کسی نے ان سے سوال کیا اور کوئی بات ان سے پوچھی تو انہوں نے جھٹ پٹ یہی فتویٰ دے دیا کہ یہ واجب القتل ہے، کافر ہو گیا، بے دین ہو گیا، اس کو مار ڈالو۔اعتراض کرنے والوں نے جب یہ حالت دیکھی تو انہوں نے یہی سمجھا کہ اسلام کے عقائد فی الحقیقت ایسے ہی کمزور اوربودے ہیں کہ وہ معقولیت کے آگے نہیں ٹھہر سکتے۔پس انہوں نے یہی بہتر سمجھا کہ