ملفوظات (جلد 4) — Page 95
سے نہ دیکھا ہو۔ہماری جماعت کے لئے اسی بات کی ضرورت ہے کہ ان کا ایمان بڑھے۔خدا تعالیٰ پر سچا یقین اور معرفت پیدا ہو۔نیک اعمال میں سستی اور کسل نہ ہو۔کیونکہ اگر سستی ہو تو پھر وضو کرنا بھی ایک مصیبت معلوم ہوتی ہے چہ جائیکہ وہ تہجد پڑھے۔اگراعمال صالحہ کی قوت پیدا نہ ہو اور مسابقت علی الخیرات کے لئے جوش نہ ہو تو پھر ہمارے ساتھ تعلق پیدا کرنا بے فائدہ ہے۔تعلیم کے موافق عمل کرنے کی نصیحت ہماری جماعت میں وہی داخل ہوتا ہے جو ہماری تعلیم کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اپنی ہمّت اور کوشش کے موافق اس پرعمل کرتا ہے۔لیکن جو محض نام رکھا کر تعلیم کے موافق عمل نہیں کرتا وہ یاد رکھے کہ خدا تعالیٰ نے اس جماعت کو ایک خاص جماعت بنانے کا ارادہ کیا ہے اور کوئی آدمی جو دراصل اس جماعت میں نہیں ہے محض نام لکھانے سے جماعت میں نہیں رہ سکتا۔اس پر کوئی نہ کوئی وقت ایسا آجاوے گا کہ وہ الگ ہو جائے گا۔اس لئے جہاں تک ہوسکے اپنے اعمال کو اس تعلیم کے ماتحت کرو جو دی جاتی ہے۔اعمال پروں کی طرح ہیں۔بغیر اعمال کے انسان روحانی مدارج کے لئے پرواز نہیں کرسکتا اور ان اعلیٰ مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتا جو ان کے نیچے اﷲ تعالیٰ نے رکھے ہیں۔پرندوں میں فہم ہوتا ہے۔اگر وہ اس فہم سے کام نہ لیں تو جو کام ان سے ہوتے ہیں نہ ہوسکیں۔مثلاً شہد کی مکھی میں اگر فہم نہ ہو تو وہ شہد نہیں نکال سکتی اور اسی طرح نامہ بر کبوتر جو ہوتے ہیں۔ان کو اپنے فہم سے کس قدر کام لینا پڑتا ہے۔کس قدر دور دراز کی منزلیں وہ طے کرتے ہیں۔اور خطوط کو پہنچاتے ہیں۔اسی طرح پر پرندوں سے عجیب عجیب کام لئے جاتے ہیں۔پس پہلے ضروری ہے کہ آدمی اپنے فہم سے کام لے اور سوچ لے کہ جو کام میں کرنے لگا ہوں یہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کے نیچے اور اس کی رضا کے لئے ہے یا نہیں؟ جب یہ دیکھ لے اور فہم سے کام لے تو پھر ہاتھوں سے کام لینا ضروری ہوتا ہے سستی اور غفلت نہ کرے۔ہاں یہ دیکھ لینا ضروری ہے کہ تعلیم صحیح ہو۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تعلیم صحیح ہوتی ہے لیکن انسان اپنی نادانی اور جہالت سے