ملفوظات (جلد 3) — Page 48
ہو تمہارے دلوں میں رقّت اور خدا کا خوف ہو اور جب پھر اپنے گھروں میں جائو تو بے خوف اور نڈر ہو جائو۔نہیں بلکہ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہیے۔ہر ایک کام کرنے سے پہلے سوچ لو اور دیکھ لو کہ اس سے خدا تعالیٰ راضی ہو گا یاناراض۔نماز کس طرح پڑھنی چاہیے نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کامعراج ہے۔خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔نماز اس لیے نہیں کہ ٹکریں ماری جاویں یا مرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں۔بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں یہ کچھ نہیں۔نماز خدا تعالیٰ کی حضوری ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مرکب صورت کا نام نماز ہے۔اس کی نماز ہرگز نہیں ہوتی جو اس غرض اور مقصد کو مدِّ نظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا۔پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔کھڑے ہو تو ایسے طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتادے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دست بستہ کھڑے ہو اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے اور سجدہ کرو تو اس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لیے دعا کرو۔طاعون ایک غضبِ الٰہی ہے طاعون جو دنیا میں آئی ہے اور اُس نے لاکھوں انسانوں کو زیر زمین کر دیا ہے، جس سے لاکھوں بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوگئی ہیں بلکہ کئی گھر بالکل تباہ ہو گئے اور خاندانوں کے خاندان بے نام ونشان ہو گئے ہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا ایک غضب ہے جو انسانوں کی غفلت اور حد سے بڑھی ہوئی شرارت اور انکار کی وجہ سے آیا ہے۔خدا تعالیٰ کا قانون یہی ہے کہ جب انسان غافل ہو جاتا ہے اور طرح طرح کی بدکاریوں اور فسق و فجور میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس وقت خدا کا غضب جوش میں آتا ہے۔اس وقت بھی دنیا کی ایسی ہی حالت ہو گئی تھی۔کچھ تو خود گمراہ ہی تھے اور غفلت اور سُستی ان میں آگئی تھی۔سچے مذہب کے سچے