ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 49 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 49

عقائد کو چھوڑ بیٹھے تھے اور تمام اعمالِ صالحہ کی جگہ صرف چند رسومات نے لے لی تھی۔اس پر پادریوں نے اور بھی مٹی پلید کی۔اُنہوں نے مختلف ذریعوں سے اس بیہودہ مذہب کو جس میں ایک عاجز انسان کو جو مَر گیا ہے خدا بنایا گیا۔لوگوں کے سامنے عجیب عجیب رنگ دے کر پیش کیا اور اس کے خون کو گناہوں کا کفارہ قرار دے کر بیباک زندگی بسر کرنے کی ترغیب دی۔حیلہ جو طبیعتوں کو ایک بہانہ مل گیا اور بہت سے مرتد ہوگئے اور اکثروں نے دین کی عظمت کو دل سے دور کر دیا۔پادریوں کے اس فتنہ کے ساتھ ہی یہ نقص پیدا ہوا کہ انگریزی تعلیم اور انگریزی وضع نے بھی ایک قسم کی نصرانیت پھیلادی جبکہ سروں میں آزادی ہی آزادی کا خیال بھر گیا۔ادھر یورپ کے فلسفہ اور طبیعیات نے اپنی جدید تحقیقاتیں جو پیش کیں تو علماء نے اپنی کمی معرفت اور علومِ حقہ سے بیخبری کے باعث اور بھی نقصان اسلام کو پہنچایا۔ان میں سے بعض نے تو قرآن کریم کی تعلیمات کی اس فلسفہ سے دب کر ایسی تاویلیں شروع کر دیں جو خدا تعالیٰ کے پاک کلام کے منشا کے صریح خلاف تھیں اور بعض نے سرے سے ان علوم جدیدہ کے پڑھنے والوں کے اعتراضوں پر ان کوکفر کے فتوے دینے شروع کر دیئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انگریزی تعلیم نے جو آزادی پھیلا دی تھی اس نے مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہوئے ہوئے بچوں کو بالکل بیباک کر دیا اور پھر ایک اور آفت یہ آئی کہ مسلمانوں میں سستی اور غفلت تو پیدا ہو ہی چکی تھی سچے عقائد کو چھوڑ کر قسم قسم کی بدعتیں اور سلسلے خدا تعالیٰ کے سچے دین اور سلسلے کے خلاف پیدا کیے گئے اور مشرکا نہ تعلیمات اور وظائف قائم کر لیے۔ان ساری آفتوں کے ہوتے ہوئے جب خدا تعالیٰ نے اپنے قدیم قانون کے موافق محض اپنے فضل سے ایک بندہ بھیج دیا جو ان ساری مصیبتوں کا چارہ گر اور مداوا تھا۔ان لوگوں نے ناحق اسے تکلیف دی اور اس کی مخالفت کے لیے اٹھے۔جب ان کی مخالفت اور شرارت حد سے بڑھ گئی اور خدا تعالیٰ کے حضور ان کی شوخیاں اور گستاخیاں اور بے جا ضد اور عداوت سے ملا ہوا انکار قابل سزا ٹھہر گیا تو اس نے اپنے وعدہ کے موافق اس بندہ کی تائید کے لیے طاعون بھیجا۔ہمیشہ دعا کرتے رہو کہ