ملفوظات (جلد 3) — Page 47
ہو جاتے ہیں اور کوئی باقی نہیں رہتا۔اﷲ تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو ایسے موقعوں پر ہمیشہ بچا لیتا ہے جبکہ بلائیں عذابِ الٰہی کی صورت میں نازل ہوں۔پس اس وقت خدا کا غضب بڑھا ہوا ہے اور حقیقت میں یہ خدا کے غضب کے ایام ہیں اس لیے کہ خدا کے حدود اور احکام کی بے حُرمتی کی جاتی ہے اور اس کی باتوں پر ہنسی اور ٹھٹھا کیا جاتا ہے۔پس اس سے بچنے کے لیے یہی علاج ہے کہ دعا کے سلسلہ کو نہ توڑو اور توبہ و استغفار سے کام لو۔وہی دعا مفید ہوتی ہے جبکہ دل خدا کے آگے پگھل جاوے اور خدا کے سوا کوئی مفرّ نظر نہ آوے جو خدا کی طرف بھاگتا ہے اور اضطرار کے ساتھ امن کا جویاں ہوتا ہے وہ آخر بچ جاتا ہے۔۱ ۵ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء ۵؍اپریل ۱۹۰۲ء کی شام کو چند آدمی بیعت کے لئے آئے ہوئے تھے۔آپ نے بعد بیعت بظاہر ان کو خطاب کر کے کل جماعت کو یوں ہدایت فرمائی۔(ایڈیٹر) استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے۔جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔جس وقت انسان اﷲ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ پہلے گناہ بخش دیتا ہے پھر بندے کا نیا حساب چلتا ہے۔اگر انسان کا کوئی ذرا سا بھی گناہ کرے تو وہ ساری عمر اس کا کینہ اور دشمنی رکھتا ہے اور گو زبانی معاف کر دینے کا اقرار بھی کرے لیکن پھر بھی جب اسے موقع ملتا ہے تو اپنے اس کینہ اور عداوت کا اس سے اظہار کرتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ ہی ہے کہ جب بندہ سچے دل سے اس کی طرف آتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا اور رجوع بہ رحمت فرماتا ہے۔اپنا فضل اس پر نازل کرتا ہے اور اس گناہ کی سزا کو معاف کر دیتا ہے، اس لیے تم بھی اب ایسے ہو کر جائو کہ تم وہ ہو جائو جو پہلے نہ تھے۔نماز سنوار کر پڑھو۔خدا جو یہاں ہے وہاں بھی ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ جب تک تم یہاں