ملفوظات (جلد 3) — Page 467
عیسائیت اختیار کرنے والے مسلمان لوگوں کے عیسائی ہونے کے ذکر پر فرمایا کہ اصل بات سچی یہی ہے کہ بجز ان لوگوں کے جن کی فطرت میں خدا نے سعادت دی ہے اور وہ احقاقِ حق چاہتے ہیں باقی کُل اَکل و شُرب کے واسطے عیسائی ہوتے ہیں اور اسلام سے ان کو کوئی مناسبت نہیں رہتی۔اسلام میں تقویٰ، طہارت، پاکیزگی، صوم و صلوٰۃ وغیرہ سب بجا لانا پڑتا ہے وہ لوگ اسے بجا لا نہیں سکتے۔حقیقت ِاسلام کی طرف نظر کی جاوے تو جن کی فطرت میں عیاشی بھری ہوئی ہے ان کو لے کر (یعنی مسلمان کرکے) ہم کیا کریں۔جہاں کہیں ان کی نفسانی اغراض پوری ہوں گی وہ وہاں ہی رہیں گے ان کو مذہب اسلام سے کیا کام۔جب ان کے اغراض میں فرق آیا پھر وہاں سے چلے جاویں گے۔ایسے لوگ بہت ہیں مگر ان کے لانے سے کیا فائدہ؟اس شخص کو لانا چاہیے جسے اوّل پہچانا جاوے کہ اس کے اندر اسلام کو قبول کرنے کامادہ ہے تزکیہ نفس اور تقویٰ اختیار کر سکے گا اور ذرا سے ابتلا سے گھبرا نہ جاوے گاتو ایسا شخص اگر مشرف باسلام ہو تو اس سے فائدہ ہوا کرتا ہے۔میری طبیعت بیزار ہوتی ہے خواہ کوئی ہندو میرے پاس آوے مگر دنیا کے گند سے بھرا ہوا ہو کہ جب ذکر کرتا ہے تو