ملفوظات (جلد 3) — Page 467
ملفوظات حضرت مسیح موعود ترقی کرے۔ ٤٦٧ ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۲ء بروز جمعه ( بوقت عصر ) جلد سوم اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو احباب سفر کریں تو دین کی نیت سے سے کریں میں سے ایک نے خواجہ کمال الدین صاح صاحب کی وساطت سے سوال کیا کہ دربار دہلی میں شامل ہونے کا بہت شوق ہے اگر اجازت ہو تو ہو آؤں۔ میں تو دل کو بہت روکتا ہوں مگر پھر خیال یہی غالب رہتا ہے کہ ہو آؤں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہو آویں کیا حرج ہے۔ ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ کو ایک دفعہ خیال آیا کہ سفر کو جانا چاہیے پھر سوچا کس واسطے جاؤں تو سمجھ میں نہ آیا کہ کسی ارادہ اور نتیت سے جانا چاہتے ہیں اس لئے پھر ارادہ ترک کیا حتی کہ سفر کا خیال غالب آیا اور آپ جب اسے مغلوب نہ کر سکے تو اس کو ایک تحریک الہی خیال کر کے نکل پڑے اور ایک طرف کو چلے ۔ آگے جا کر دیکھتے ہیں لے الحکم میں ۲۵ دسمبر ۱۹۰۲ء کا آخری حصہ ذرا مفضل الفاظ میں یوں ہے۔ ”ہمارے کام کے تو وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو اسلامی احکام کی پابندیوں کا بوجھ اٹھا سکیں اور تقویٰ و طہارت سے تزکیہ نفس کریں۔ اس لئے بہت بھرتی بھرنے کی کوئی ضرورت نہیں پس کوئی ایسا شخص خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی اگر ہمارے پاس آتا ہے اور اس کی خواہشوں میں گند بھرا ہوا ہے کہ جب ذکر کرتا ہے دنیا کا اور نفسانی اغراض کا وہ ہمارے مطلب کا کیسے ہو سکتا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی اکرام متقی ہی کا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے ان أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمُ (الحجرات : (۱۴) یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک معزز و مکرم وہی ہے جو متقی ہے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کے نزدیک جو مکرم ہے وہی ہمارے نزدیک مکرم ہو سکتا ہے اور وہ متقی ہوتا ہے اس کے سوا منافق ۔ ہم اپنی جماعت کے لئے بھی چاہتے ہیں کہ وہ تقویٰ میں ترقی کرے اور اگر باہر سے کوئی آوے تو وہ ایسا ہونا چاہیے جو متقی بنا چاہتا ہو ورنہ بد نام کرنے والا نہ ہو۔“ (الحکم جلدے نمبر امورخه ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) البدر جلد نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحہ ۷۸،۷۷