ملفوظات (جلد 3) — Page 466
ایک الہام اس وقت تشریف لاکر حضرت اقدس نے فرمایا کہ رات کو الہام ہوا ہے اِنِّیْ صَادِقٌ صَادِقٌ وَسَیَشْھَدُ اللہُ لِیْیعنی میں صادق ہوں صادق ہوں عنقریب اﷲ تعالیٰ میری شہادت دیوے گا۔خبر نہیں کہ کس اَمر کے متعلق ہے۔یہ مقدمہ جو اس وقت جہلم میں ہوا ہے یہ تو ایک چھوٹی سی اور شخصی بات ہے اصل مقدمہ ہمارا تو وہ ہے جو کروڑہا آدمیوں کے ساتھ ہے اور جو قیامت تک نفع پہنچانے والا ہے۔حسب دستور مغرب کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد حضرت اقدس طعام تناول فرما کر تشریف لائے تو ڈاکٹر محمد حسین صاحب اسسٹنٹ سرجن بھیرہ سے ، بابو فخر الدین صاحب کھوکھیاٹ علاقہ میانی ، بابو نبی بخش صاحب، حافظ فضل احمد صاحب لاہور سے تشریف لائے ہوئے تھے سب نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نیاز حاصل کی۔طاعون کا کچھ ذکر نو وارد احباب سے حضرت اقدس دریافت کرتے رہے۔اَللِّوَاء کے اعتراض کا فصیح و بلیغ جواب مصر کے اَللِّوَاءکے اعتراض پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے عربی میں جو رسالہ تحریر فرمایا ہے اس کی فصاحت پر مولوی عبد الکریم اور مولوی نور الدین صاحبان کلام کرتے رہے کہ اِنْ شَآءَ اللہُ بہت ہی سعید روحیں عرب میں ہوں گی جو اسے دیکھ کر عاشق زار ہو جاویں گی۔حکیم صاحب بیان کرتے تھے کہ میں حیران ہو ہو جاتا تھا اور جی چاہتا کہ سجدہ کروں پھر حیران ہوتا کہ کون سے لفظ پر سجدہ کروں۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ہمارا مطلب یہی ہے کہ چونکہ ہر وقت موقع نہیں ہوتا اکثر کام اردو زبان میں ہوتا ہے اس لئے دوہزار چھپوا لیا جاوے جہاں کہیں عرب میں بھیجنے کی ضرورت ہوئی بھیج دیا۔مخالفت میں بھی ہمارے لئے برکت ہوتی ہے اور جو لکھتا ہے ہماری خیر کے لئے لکھتا ہے ورنہ پھر تحریک کیسے ہو۔