ملفوظات (جلد 3) — Page 468
دنیا کا اور جو خیال ہے دنیا کا۔تو ایسے کو مسلمان کر کے کیا کیا جاوے گا؟ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بھی ایسا ہی تھا۔جو لوگ متقی نہ رہے آخر وہ کافر ہو گئے۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ تقویٰ میں ترقی کرے۔۱ ۲ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ(بوقتِ عصر) سفر کریں تو دین کی نیت سے کریں اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو احباب میں سے ایک نے خواجہ کمال الدین صاحب کی وساطت سے سوال کیا کہ دربار دہلی میں شامل ہونے کا بہت شوق ہے اگر اجازت ہو تو ہو آئوں۔میں تو دل کو بہت روکتا ہوں مگر پھر خیال یہی غالب رہتا ہے کہ ہو آئوں۔حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ہو آویں کیا حرج ہے۔ایک کتاب میں لکھا ہے کہ جنید بغدادی علیہ الرحمۃ کو ایک دفعہ خیال آیا کہ سفر کو جانا چاہیے پھر سوچا کس واسطے جائوں تو سمجھ میں نہ آیا کہ کس ارادہ اور نیّت سے جانا چاہتے ہیں اس لئے پھر ارادہ ترک کیا حتی کہ سفر کا خیال غالب آیا اور آپ جب اسے مغلوب نہ کرسکے تواس کو ایک تحریک ِالٰہی خیال کرکے نکل پڑے اور ایک طرف کو چلے۔آگے جا کر دیکھتے ہیں کہ ایک درخت کے تلے ایک شخص بے دست وپا پڑا ہے۔اس نے ان کو دیکھتے ہی کہا کہ اے جنید! میں کتنی دیر سے تیرا منتظر ہوں تو دیر لگا کر کیوں آیا۔تب آپ نے کہا کہ اصل میں تیری ہی کشش تھی جو مجھے بار بار مجبور کرتی تھی تو اسی طرح ہر ایک اَمر میں ایک کشش قضا وقدر کی مقدر ہوتی ہے وہ پوری نہ ہولے تو آرام نہیں آتا۔آپ سفر کریں تودین کی نیت سے کریں دنیا کی نیت سے جو سفر ہوتا ہے وہ گناہ ہوتا ہے اور انسان تب ہی درست ہوتا ہے کہ ہر ایک بات میں کچھ نہ کچھ اس کا رجوع دین کا ہووے۔ہر ایک مجلس میں اس نیت سے جاوے کہ کچھ پہلو دین کا حاصل ہو۔حدیث شریف میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے مکان بنایا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس نے عرض کیا کہ آپ وہاں تشریف لے چلیں تو آپ کے قدموں سے برکت ہو۔جب وہاں حضرتؐگئے تو آپ نے ایک دریچہ دیکھا