ملفوظات (جلد 3) — Page 464
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۴ جلد سوم دعا ربَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ( البقرۃ: ۲۰۲) کے کیا معنے ہیں اور اس سے کیا مراد ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب، شدائد، ابتلا وغیرہ اسے پیش آتے ہیں ان سے امن میں رہے۔ دوسرے فسق و فجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور کرتی ہیں ان سے نجات پاوے تو دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر ہر ایک بلا اور گندی زندگی اور ذلت سے محفوظ رہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : ۲۹) ایک ناخن میں ہی درد ہو تو زندگی بے مزا ہو جاتی ہے میری زبان کے تلے ذرا درد ہے اس سے سخت تکلیف ہے اسی طرح جب انسان کی زندگی خراب ہوتی ہے جیسے بازاری عورتوں کا گروہ کہ ان کی زندگی کیسی ظلمت سے بھری ہوئی اور بہائم کی طرح ہے کہ خدا اور آخرت کی کوئی خبر نہیں تو دنیا کا حسنہ یہی ہے کہ خدا ہر ایک پہلو سے خواہ وہ دنیا کا ہو خواہ آخرت کا ہر ایک بلا سے محفوظ رکھے اور فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً میں جو آخرت کا پہلو ہے وہ بھی دنیا کی حسنہ کا ثمرہ ہے۔ اگر دنیا کا حسنہ انسان کو مل جاوے تو وہ فال نیک آخرت کے واسطے ہے۔ یہ غلط ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا حسنہ کیا مانگنا ہے آخرت کی بھلائی ہی مانگو۔ صحت جسمانی وغیرہ ایسے امور ہیں جن سے انسان کو دنیا میں آرام ملتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ آخرت کے لئے کچھ کر سکتا ہے اور اسی لئے دنیا کو آخرت کا مزرعہ کہتے ہیں اور در حقیقت جسے خدا دنیا میں صحت ، عزت، اولا د اور عافیت دیوے اور عمدہ عمدہ اعمال صالحہ اس کے ہوں تو امید ہوتی ہے کہ اس کی آخرت بھی اچھی ہوگی ۔ كُل يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ (بنی اسرآءيل: ۸۵) بات بہت عمدہ ہے کہ انسان نیکی اور پاکیزگی کی طرف جھک جاوے۔ دنیا میں مختلف فطرتیں ہوتی ہیں جس حد تک ایک سعید پہنچ جاتا ہے اس حد تک ہر ایک انسان نہیں پہنچتا۔ بعض کھو پریاں ایسی ساخت کی ہوتی ہیں کہ اس کھو پری والے انسان سمجھ ہی نہیں سکتے ۔ ایک نیک ہوتا ہے اور وہ بدوں کی مجلس میں