ملفوظات (جلد 3) — Page 464
یاجوج ماجوج کے لمبے کانوں سے مُراد یاجوج ماجوج کے ذکر پر فرمایا کہ اس کے لمبے کانوں سے مُراد جاسوسی کی مشق ہے جیسے اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ تار خبر کا سلسلہ اور اخبار وغیرہ سب اسی میں ہیں۔موجودہ علامات سے عقل مند جانتا ہے کہ اگر خدا کا ارادہ جنگ کا ہوتا تو مسلمانوں کو نبرد آزمائی کے سامان میسر آتے اور ان میں قوت اور شوکت بڑھتی مگر اہلِ اسلام تو دن بدن تنزّل پر ہیں اور ان کی یہ حالت ہے کہ اگر ان کو سامان جنگ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ یورپ کی سلطنتوں سے منگواتے ہیں اور خود نہیں تیار کر سکتے۔۱ ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ دنیا اور آخرت کی حسنات عشاء کی نماز سے قبل جب آپ نے مجلس کی تو سید ابو سعید صاحب عرب نے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ و السلام سے عرض کی کہ دعا رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ( البقرۃ : ۲۰۲) کے کیا معنے ہیں اور اس سے کیا مُراد ہے؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ انسان اپنے نفس کی خوشحالی کے واسطے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ایک دنیا کی مختصر زندگی اور اس میں جو کچھ مصائب، شدائد، ابتلا وغیرہ اسے پیش آتے ہیں ان سے امن میں رہے۔دوسرے فسق وفجور اور روحانی بیماریاں جو اسے خدا سے دور کرتی ہیں ان سے نجات پاوے تو دنیا کا حسنہ یہ ہے کہ کیا جسمانی اور کیا روحانی طور پر ہر ایک بَلا اور گندی زندگی اور ذلّت سے محفوظ رہے خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِيْفًا( النِّسآء : ۲۹) ایک ناخن میں ہی درد ہو تو زندگی بے مزا ہو جاتی ہے میری زبان کے تلے ذرا درد ہے اس سے سخت تکلیف ہے اسی طرح جب انسان کی زندگی خراب ہوتی ہے جیسے بازاری عورتوں