ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 465

کا گروہ کہ ان کی زندگی کیسی ظلمت سے بھری ہوئی اور بہائم کی طرح ہے کہ خدااور آخرت کی کوئی خبر نہیں تو دنیا کا حسنہ یہی ہے کہ خداہر ایک پہلو سے خواہ وہ دنیا کا ہو خواہ آخرت کا ہر ایک بَلا سے محفوظ رکھے اور فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً میں جو آخرت کا پہلو ہے وہ بھی دنیا کی حسنہ کا ثمرہ ہے۔اگر دنیا کا حسنہ انسان کو مل جاوے تو وہ فال نیک آخرت کے واسطے ہے۔یہ غلط ہے جو لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کا حسنہ کیا مانگنا ہے آخرت کی بھلائی ہی مانگو۔صحت جسمانی وغیرہ ایسے امور ہیں جن سے انسان کو دنیا میں آرام ملتا ہے اور اس کے ذریعہ سے وہ آخرت کے لئے کچھ کر سکتا ہے اور اسی لئے دنیا کو آخرت کا مزرعہ کہتے ہیں اور درحقیقت جسے خدادنیا میں صحت، عزّت، اولاد اور عافیت دیوے اور عمدہ عمدہ اعمالِ صالحہ اس کے ہوں تو امید ہوتی ہے کہ اس کی آخرت بھی اچھی ہوگی۔كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ (بنی اسـرآءیل:۸۵) بات بہت عمدہ ہے کہ انسان نیکی اور پاکیزگی کی طرف جھک جاوے۔دنیا میں مختلف فطرتیں ہوتی ہیں جس حد تک ایک سعید پہنچ جاتا ہے اس حد تک ہر ایک انسان نہیں پہنچتا۔بعض کھوپریاں ایسی ساخت کی ہوتی ہیں کہ اس کھوپری والے انسان سمجھ ہی نہیں سکتے۔ایک نیک ہوتا ہے اور وہ بدوں کی مجلس میں جا بیٹھے تو اسے کچھ حظ نہیں آتا۔اسی طرح ایک بد نیکوں کی محفل سے کوئی حظ حاصل نہیں کرتا۔گویا ایک سمندر حائل درمیان میں ہے کہ نہ اِدھر کا آدمی اُدھر اور اُدھر کا اِدھر آسکتا ہے۔ایک ہماری جماعت ہے کہ جو کہیں مان لیتی ہے اور ہر طرح تیار ہیں اور خوب سمجھے ہوئے ہیں اور ایک وہ ہیں کہ جب تک ہمیں دجّال کافر وغیرہ نہ کہہ لیں اور گالیاں نہ دے لیں ان کو صبر نہیں آتا۔کیا ان کی آنکھیں نہیں کہ کان نہیں یا دماغ نہیں۔سب کچھ ہے مگر كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ (بنی اسـراءیل : ۸۵)۔۱ ۲۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبہ (بوقتِ ظہر)