ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 462 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 462

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۲ جلد سوم اسی طرح ایک دفعہ رسول اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فارسی زبان میں الہام صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض ہوا تھا کہ کسی اور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتا تو آپ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی میں الہام کیا ایں مُشتِ خاک را گر نہ بخشم چه کنم آخر کار خدا کی رحمت ہی کا روبار کرے گی اور یہ ویسی ہی بات ہے جیسے یہود نے کہا تھا کہ پیغمبر آخر زمان بنی اسرائیل میں سے ہونا چاہیے تھا اور جس قدر نبی آئے ہیں سب کے بارے میں اسی طرح شبہات پڑتے رہے ہیں۔ عیسی علیہ السلام کے وقت یہود کو کس قدر شبہات آئے ۔ پیغمبر خدا کے وقت میں بھی پڑے کہ بنی اسرائیل میں سے کیوں نہ آیا۔ یہ عادت اللہ ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور مخفی رکھا جاتا ہے کہ ایمان بالغیب کی حقیقت رہے ورنہ پھر ایمان پر ثواب کیا مرتب ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ حکم ہوگا جس کے یہ معنے ہیں کہ سچی بات حکم کا کام پیش کرے گا اور رطب و یابس کو اٹھا دے گا اور احادیث تو ذخیرہ ظنوں کا ہے شیعہ، وہابی سُستی وغیرہ جو تہتر ف ہ جو تہتر فرقہ اہلِ اسلام کے ہیں سب احادیث ہی کو پیش کرتے ہیں اور حکم کا کام ہے وہ ان میں تحقیق کرے اور جو سچی بات ہوا سے قبول کرے ورنہ پھر ہر ایک فرقہ کا حق ہے کہ اسے مجبور کرے کہ میری مان۔ اور اسے کہا جا سکتا ہے کہ جب ایک کی پیش کردہ احادیث کو تم بلا اعتراض مان لیتے ہو تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے فرقوں کی حدیثوں کو بھی ویسے ہی نہ مانا جاوے۔ پھر اس صورت میں وہ آنے والا ، والا حکم کیا رہا۔ حکم کا لفظ بتلا رہا ہے کہ ایسے وقت میں کچھ لیا جاتا ہے اور کچھ چھوڑا جاتا ہے۔ موزوں پر مسح کا ذکر ہوا تو حضرت اقدس نے فرمایا کہ موزوں پر سے موتی موزہ پربھی مسح جائز ہے اور آپ نے اپنے پائے مبارک کو دکھلایا جس میں سوتی موزے تھے کہ میں ان پر مسح کر لیا کرتا ہوں ۔ ہمارے پیغمبر خدا نے جبکہ تیرہ سال اس زمانہ میں آخر دعاؤں کے ساتھ مقابلہ ہوگا ایک تلوار نہ اٹھائی تو امام مہدی کو کیسے حق پہنچتا ہے کہ جس حالت میں تیرہ سو سال سے لوگ دین سے ناواقف ہو گئے ہیں آتے ہی ان