ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 452

عبادت ہی ہوتا ہے۔تلوار کا استعمال صرف دفاع کی خاطر تھا پھر جہاد کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ اب تلوار سے کام لینا تو اسلام پر تلوار مارنی ہے اب تو دلوں کو فتح کرنے کا وقت ہے اور یہ بات جبر سے نہیں ہو سکتی۔یہ اعتراض کہ آنحضرتؐنے پہلے تلوار اٹھائی بالکل غلط ہے تیرہ برس تک آنحضرتؐاور صحابہ صبر کرتے رہے پھر باوجود اس کے کہ دشمنوں کا تعاقب کرتے تھے مگر صلح کے خواستگار ہوتے تھے کہ کسی طرح جنگ نہ ہو اور جو مشرک قومیں صلح اور امن کی خواستگار ہوتیں ان کو امن دیا جاتا اور صلح کی جاتی۔اسلام نے بڑے بڑے پیچوں سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانا چاہا ہے جنگ کی بنیاد کو خود خدا تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ چونکہ یہ لوگ بہت مظلوم ہیں اور ان کو ہر طرح سے دکھ دیا گیا ہے اس لئے اب اﷲ تعالیٰ اجازت دیتا ہے کہ یہ بھی ان کے مقابلہ پر لڑیں۔ورنہ اگر تعصّب ہوتا تو یہ حکم پہنچتا کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ دین کی اشاعت کے واسطے جنگ کریں لیکن ادھر حکم دیا کہ لَاۤ اِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ (البقرۃ : ۲۵۷) (یعنی دین میں کوئی زبردستی نہیں )اور ادھر جب غایت درجہ کی سختی اور ظلم مسلمانوں پر ہوئے تو پھر مقابلہ کا حکم دیا۔کمالات مجاہدہ سے حاصل ہوتے ہیں نہ کسی کے خون سے دین اسلام ایسا دین ہے کہ اگر خدا ہمیں عمر اور فرصت دے تو چند ایام میں ان لوگوں کو معلوم ہو جاوے گا کہ کیسا میٹھا اور شیریں دین ہے۔کمالات تو انسان کو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں مگر جن کو سہل نسخہ مسیح کے خون کامل گیا وہ کیوں مجاہدات کرے گا۔اگر مسیح کے خون سے کامیابی ہے تو پھر ان کے لڑکے امتحان پاس کرنے کے واسطے کیوں مدرسوں میں محنتیں اور کوششیں کرتے ہیں چاہیے کہ وہ تو صرف خون۱ پر بھروسہ رکھیں اور اس سے کامیاب ہوں اور کوئی محنت نہ کریں اور مسلمانوں کے بچے محنتیں کر کر کے اور ٹکریں مارمار کر پاس ہوں۔اصل بات یہ ہے لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى (النّجم :۴۰)۔اس