ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 453 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 453

دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایک انسان جب اپنے نفس کو مطالعہ کرتا ہے تو اسے فسق و فجور وغیرہ معلوم ہوتے ہیں۔آخر وہ یقین کی حالت پر پہنچ کر ان کو صیقل کر سکتا ہے لیکن جب خون مسیح پر مدار ہے تو پھر مجاہدات کی کیا ضرورت ہے ان کو جھوٹی تعلیم سچی ترقیات سے روک رہی ہے۔سچی تعلیم والا دعائیں کرتا ہے کوششیں کرتا ہے آخر دوڑتا دوڑتا ہاتھ پائوں مارتا ہوا منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔جب یہ بات ان کی سمجھ میں آوے گی کہ یہ سب باتیں قصہ کہانی ہیں (اور ان سے اب کوئی آثار اور نتائج مرتّب نہیں ہوتے) اور ادھر سچی تعلیم کی تخم ریزی کے ساتھ برکات ہوں گی تو یہ لوگ خود سمجھ لیویں گے انسان کھیتی کرتا ہے اس میں بھی محنت کرنی پڑتی ہے۔اگر ایک ملازم ہے تو اسے بھی محنت کا خیال ہے غرضیکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر کوشش میں لگا ہے اور سب کا ثمرہ کوشش پر ہی ہے۔سارا قرآن کوشش کے مضمون سے بھرا پڑا ہے۔لَيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى۱ (النّجم : ۴۰) ان لوگوں کو جو ولایت میں خونِ مسیح پر ایمان لا کر بیٹھے ہیں کوئی پوچھے کیا حاصل ہوا۔مَردوں یا عورتوں نے خون پر ایمان لا کر کیا ترقی حاصل کی۔یہ باتیں ہیں جو بارباران کے کانوں تک پہنچانی چاہئیں یہ قصہ جھوٹا ہے کہ خداپیٹ میں رہا۔پھر اسے خسرہ وغیرہ نکلی ہوگی۔طفولیت کے عالَم میں ماں بھی کوئی دھول دھپامار بیٹھی ہوگی۔لڑکوں میں کھیلتا ہوگا وہاں بھی مار کھاتا ہوگا۔اب اس نظارہ کو کوئی دیکھے کہ بڑا ہو کر بھی مار کھاتا رہا اور چھوٹا تھا تو بھی طمانچے پڑتے رہے۔۲ ۲۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبہ(بوقتِ ظہر)