ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 437 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 437

۱۳؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ ایک ہندوتاجر کی حضرت اقدسؑ سے عقیدت عصر کے وقت نماز سے پیشتر ایک ہندو صاحب سوداگر پارچہ امرتسری نے آکر حضرت اقدس سے نیاز مندانہ طور پر نیاز حاصل کی اور استفسار پر اس نے جواب دیا کہ ہم امرتسر میں ایک بڑے سودا گر ہیں۔اس طرف تمام علاقہ میں ہماری دوکان سے کپڑا آتا ہے میں اپنی آسامیوں سے روپیہ وصول کرنے آیا تھا میرے بھائی نے کہا تھا کہ حضور کی قدم بوسی کرتا آئوں۔پھر عصر کی نماز ہوئی اور ہندو صاحب الگ ایک گوشے میں بیٹھے رہے۔بعد نماز وہ پھر نیاز حاصل کر کے اور دست بوسی کر کے رخصت ہوئے۔بجلی چمکنے کی تعبیر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ایک خواب اپنا عرض کیا جس میں انہوں نے بجلی دیکھی تھی۔اس پر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ شائد کوئی تیس۳۰ برس کا عرصہ گذرا ہوگا کہ میں نے بھی ایک خواب دیکھا کہ اب جس مقام پر مدرسہ کی عمارت ہے وہاں بڑی کثرت سے بجلی چمک رہی ہے بجلی چمکنے کی یہ تعبیر ہوتی ہے کہ وہاں آبادی ہوگی۔۱ ۱۴؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ(بوقتِ ظہر ) اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو لاہور سے چند ایک احباب تشریف لائے ہوئے تھے جن کے نام یہ تھے شیخ رحمت اللہ صاحب، مرزا یعقوب بیگ صاحب، میر محمد اسماعیل صاحب، حکیم نور محمد صاحب اور برہما سے سید ابو سعید صاحب تاجر برنج رنگون۔ان سب نے حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی۔دانت درد کا علاج ایک صحابی کے دانت میں سخت درد تھی۔حضرت نے فرمایا کہ اس کے لئے مجرّب علاج یہ ہے کہ ایک بوٹی بنام کارابار انہر کے کنارے