ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 436 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 436

اور لوگ گالیاں دیتے اور سبّ و شتم کرتے ہیں۔(سوم)۔آیا خدا نے اب تک کیا تفریق کر کے دکھائی ہے اور مخالفوں کی مخالفت کے کیا نتائج ہوئے۔آسمانی اور زمینی نشان عشاء سے قبل قدرے مجلس کی اور اخبارات انگریزی سنتے رہے۔ایک مقام پر فرمایا کہ خدا تعالیٰ جو نشان دکھلاتا ہے اشتہاری دکھلاتا ہے۔کسوف وخسوف بھی اشتہاری تھا اور وہ آسمانی تھا۔اب یہ طاعون بھی اشتہاری ہے اور یہ زمینی ہے۔اگر آج سے ایک ہزار برس پیشتر تک کی تواریخ پنجاب کی دیکھتے جائو تو جیسی طاعون اب ہے اس کی نظیر نہ ملے گی۔ابھی تو اس کے پائوں جمے ہیں۔اگر یہ سرسری ہوتی تو اس کا دورہ ختم ہوجاتا۔موت اور خوف بھی خدا کے رعب کا نظارہ ہے اور اصلاح کا وقت ہے ہر ایک قسم کی قبیح رسم خود بخود دور ہو جاوے گی۔ابھی تو کارروائی شروع ہے کسی کا قول ہے۔؎ ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۱ ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ خود نماز جنازہ پڑھانا جمعہ مسجد اقصیٰ میں ادا کیا۔بعد ادائے جمعہ، نماز جنازہ ایک احمدی بھائی مرحوم کی حضرت اقدس نے پڑھائی۔(بوقتِ عصر) ایک الہام اس وقت تشریف لا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ الہام ہوا ہے۔اس کے ساتھ ایک اور عجیب اور مبشر فقرہ تھا۔وہ یاد نہیں رہا۔یُنَادِیْ مُنَادٍ مِّنَ السَّمَآءِ۔۲