ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 425 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 425

الْبَیْتِ۔سَلْمَانُ یعنی اَلصُّلْحُ کہ اس شخص کے ہاتھ سے دو صلح ہوں گی۔ایک اندرونی دوسری بیرونی اور یہ اپنا کام رفق سے کرے گا نہ کہ شمشیر سے۔اور میں مشرب حسین پر نہیں ہوں کہ جس نے جنگ کی بلکہ مشرب حسن پر ہوں کہ جس نے جنگ نہ کی میں نے سمجھا کہ روزہ کی طرف اشارہ ہے چنانچہ میں نے چھ ماہ تک روزے رکھے۔اس اثنا میں مَیں نے دیکھا کہ انوار کے ستونوں کے ستون آسمان پر جارہے ہیں یہ اَمر مشتبہ ہے کہ انوار کے ستون زمین سے آسمان پر جاتے تھے یا میرے قلب سے لیکن یہ سب کچھ جوانی میں ہو سکتا تھا اور اگر اس وقت میں چاہتا تو چار سال تک روزہ رکھ سکتا تھا۔؎ نشاط نوجوانی تا بہ سی سال چو چہل آمد فرو ریزد پر و بال اب جب سے چالیس سال گذر گئے دیکھتا ہوں کہ وہ بات نہیں۔ورنہ اول میں بٹالہ تک کئی بار پیدل چلا جاتا اور پیدل آتا اور کوئی کسل اور ضعف مجھے نہ ہوتا اور اب تو اگر پانچ یا چھ میل بھی جائوں تو تکلیف ہوتی ہے چالیس سال کے بعد حرارتِ غریزی کم ہونی شروع ہو جاتی ہے خون کم پیدا ہوتا ہے اور انسان کے اوپرکئی صدمات رنج و غم کے گذرتے ہیں۔اب کئی دفعہ دیکھا ہے کہ اگر بھوک کے علاج میں زیادہ دیر ہو جائے تو طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے۔عباداتِ مالی و عبادات بدنی خدا تعالیٰ کے احکام دو قسموں میں تقسیم ہیں۔ایک عبادات مالی دوسرے عبادات بدنی۔عبادات مالی تو اسی کے لئے ہیں جس کے پاس مال ہو اور جن کے پاس نہیں وہ معذور ہیں اور عبادات بدنی کو بھی انسان عالَمِ جوانی میں ہی ادا کر سکتا ہے ورنہ ساٹھ سال جب گذرے تو طرح طرح کے عوارضات لاحق ہوتے ہیں نزول الماء وغیرہ شروع ہو کر بینائی میں فرق آجاتا ہے۔یہ ٹھیک کہا کہ پیری وصد عیب اور جو کچھ انسان جوانی میں کر لیتا ہے اسی کی برکت بڑھاپے میں بھی ہوتی ہے اور جس نے جوانی میں کچھ نہیں کیا اسے بڑھاپے میں بھی صدہا رنج برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ع موئے سفید از اجل آرد پیام