ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 426

انسان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ حسبِ استطاعت خدا کے فرائض بجا لاوے۔روزہ کے بارے میں خدا فرماتا ہے وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ (البقرۃ : ۱۸۵) یعنی اگر تم روزہ رکھ بھی لیا کرو تو تمہارے واسطے بڑی خیر ہے۔فدیہ کی غرض ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے۔تاکہ روزہ کی توفیق اس سے حاصل ہو۔خدا ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شَے خدا ہی سے طلب کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ تو قادر مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جاوے اور یہ خدا کے فضل سے ہوتا ہے۔پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الٰہی یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور میں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ۔یا ان فوت شدہ روزوں کو ادا کر سکوں یا نہ۔اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا طاقت بخش دے گا۔روزہ کی فرضیت اگر خدا چاہتا تو دوسری اُمتوں کی طرح اس امت میں کوئی قید نہ رکھتا مگر اس نے قیدیں بھلائی کے واسطے رکھی ہیں میرے نزدیک اصل یہی ہے کہ جب انسان صدق اور کمال اخلاص سے باری تعالیٰ میں عرض کرتا ہے کہ اس مہینے میں تو مجھے محروم نہ رکھ تو خدا اسے محروم نہیں رکھتا اور ایسی حالت میں اگر انسان ماہ رمضان میں بیمار ہو جاوے تو یہ بیمار ی اس کے حق میں رحمت ہوتی ہے۔کیونکہ ہر ایک عمل کامدار نیت پر ہے مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود سے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی راہ میں دلاور ثابت کردے جو شخص کہ روزے سے محروم رہتا ہے مگر اس کے دل میں یہ نیت درددل سے تھی کہ کاش میں تندرست ہوتا اور روزہ رکھتا اور اس کا دل اس بات کے لئے گریاں ہے تو فرشتے اس کے لئے روزے رکھیں گے بشرطیکہ وہ بہانہ جُو نہ ہو تو خدا تعالیٰ ہرگز اسے ثواب سے محروم نہ رکھے گا۔یہ ایک باریک اَمر ہے کہ اگر کسی شخص پر (اپنے نفس کی کسل کی وجہ سے) روزہ گراں ہے اور وہ