ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 424

(بوقتِ ظہر) بغیر عذر کے دعوت ردّ کرنا اچھی بات نہیں ایک خادم نے عرض کی کہ ایک تقریب پر اس کے ہاں خوشی ہے اور کچھ کھانے کا انتظام کیا گیا ہے حضور بھی شام کو تشریف لا کر کھانا وہیں تناول فرماویں تو عین سعادت ہے۔فرمایا۔دعوت راحت کے واسطے ہوتی ہے۔مجھے ایسی مرض ہے کہ دن کے آخری حصہ میں وہ عود کرتی ہے اور میں بالکل چل پھر نہیں سکتا۔اسی لئے دیکھتے ہو کہ پھرنے کا وقت صبح کا رکھا ہے ابھی بھی نماز سے پیشتر پائوں سرد ہو رہے تھے تو میں دوا پی کر آیا ہوں خیال آتا ہے کہ گھڑی گھڑی کیا کہوں کہ سرد ہو رہا ہوں اس لئے افتاں خیزاں آجاتا ہوں۔اس لئے شام کو میں جا نہیں سکتا ورنہ دعوت کا ردّ کرنا تو اچھی بات نہیں ہے مگر جب بیمار ہو تو انسان مجبور ہے۔ماہِ رمضان کی عظمت اور اُس کے روحانی اثرات مغرب کی نماز سے چند منٹ پیشتر ماہ رمضان کا چاند دیکھا گیا۔حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام مغرب کی نماز گذار کر مسجد کی سقف پر تشریف لے گئے کہ چاند کو دیکھیں اور دیکھا اور پھر مسجد میں تشریف لائے۔فرمایا کہ رمضان گذشتہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کل گیا تھا۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْۤ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ (البقرۃ : ۱۸۶) بھی ایک فقرہ ہے جس سے ماہ رمضان کی عظمت معلوم ہوتی ہے۔صوفیا نے لکھا ہے کہ یہ ماہ تنویر ِقلب کے لئے عمدہ مہینہ ہے۔کثرت سے اس میں مکاشفات ہوتے ہیں۔صلوٰۃ تزکیہ نفس کرتی ہے اور صوم (روزہ) تجلّی قلب کرتا ہے۔تزکیہ نفس سے مُراد یہ ہے کہ نفسِ اَمّارہ کی شہوات سے بُعد حاصل ہو جاوے اور تجلّی قلب سے یہ مُراد ہے کہ کشف کا دروازہ اس پر کھلے کہ خدا کو دیکھ لیوے۔پس اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ میں یہی اشارہ ہے اس میں شک و شبہ کوئی نہیں ہے روزہ کا اجر عظیم ہے لیکن امراض اور اغراض اس نعمت سے انسان کو محروم رکھتے ہیں مجھے یاد ہے کہ جوانی کے ایام میں میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ روزہ رکھنا سنّت اہلِ بیت ہے۔میرے حق میں پیغمبر خدا نے فرمایا سَلْمَانُ مِنَّا اَھْل