ملفوظات (جلد 3) — Page 417
حال اس وقت تھا۔مکّہ کے دو عمرو ابو جہل کو فرعون کہا گیا ہے۔مگر میرے نزدیک وہ تو فرعون سے بڑھ کر ہے فرعون نے تو آخر کہا کہ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ (یونس : ۹۱) مگر یہ آخر تک ایمان نہ لایا۱ مکہ میں سارا فساد اسی کا تھا اور بڑا متکبر اور خود پسند۔عظمت اور شرف کو چاہنے والا تھا اس کا اصل نام بھی عمرو تھا اور یہ دونو ں عمرو مکہ میں تھے خدا کی حکمت یہ کہ ایک عمرو کو تو کھینچ لیا اور ایک بے نصیب رہا اس کی روح تو دوزخ میں جلتی ہوگی اور حضرت عمروؓ نے ضد چھوڑ دی تو بادشاہ ہو گئے۔سورۃ الکوثر کی تفسیر جیسے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ ( الکوثر : ۴) آنحضرتؐکے حق میں ہے ایسا ہی میرا بھی یہ الہام ہے۔یہ کم بخت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو جسمانی اور روحانی طور پر ہر دو طرح ابتر قرار دیتے ہیں۔حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہےاِنَّاۤ اَعْطَيْنٰكَ الْكَوْثَرَ(الکوثر : ۲) یہاں کوثر کا قرینہ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ ہے۔نحر اولاد کے لئے ہوتا ہے کہ جب عقیقہ ہوتا ہے تو قربانیاں دیتے ہیں۔پس اگر نبی کریم کی اولاد نہ روحانی ہوئی نہ جسمانی تو نحر کس کے لئے آیا؟ عبد اﷲ غزنوی کا الہام اس وقت قرآن کی عظمت بالکل دلوں میں نہیں رہی عبد اﷲ غزنوی صاحب کا بھی ایک کشف ہے جو اس کے متعلق تھا کہ اس میں ان کو الہام ہوا تھا کہ ھٰذَا کِتَابِیْ ھٰذَا عِبَادِیْ۔فَاقْرَأْ کِتَابِیْ عَلٰی عِبَادِیْ۔حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کا غصہ عمرؓ سے کسی نے پوچھا کہ آپ بڑے غصہ والے ہوتے تھے اب غصہ مسلمان ہونے سے دور ہو گیا فرمایا۔دور تو نہیںہوا منعقد ہو گیا ہے اور اب اپنے ٹھکانے پر چلتا ہے۔۲