ملفوظات (جلد 3) — Page 416
مخالفتِ نفس بھی ایک عبادت ہے مخالفتِ نفس بھی ایک عبادت ہے انسان سویا ہوا ہوتا ہے جی چاہتا ہے کہ اور سولے مگر وہ مخالفتِنفس کر کے مسجد جاتا ہے تو اس مخالفت کا بھی ایک ثواب ہے اور ثواب نفس کی مخالفت تک ہی ہوتا ہے ورنہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو پھر ثواب نہیں ہوتا۔عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمۃ کہتے ہیں کہ جب آدمی عارف ہو جاتا ہے تو اس کی عبادت کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے کیونکہ جب نفس مطمئنّہ ہو گیا اَمَّارہ نہ رہا تو ثواب کیسے رہا۔نفس کی مخالفت کرنے سے ثواب تھا وہ اب رہی نہیں۔بے صبر نہیں ہونا چاہیے قرآن شریف میں ہےوَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ (الرّحـمٰن : ۴۷) یعنی وہ جنت میں داخل ہو گیا اور اس کا درجہ ثواب کا نہ رہا تو یہ بات بے صبری سے نہیں ملتی۔انسان کو یہاں تک صبر کرنا چاہیے کہ اس کا دل یقین کر لے کہ میرے جیسا کوئی صابر نہیں۔آخر خدا تعالیٰ مہربان ہو کر دروازہ کھول دیتا ہے اسی طرح ایک اور بزرگ کا قول ہے جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو تمام عبادتیں ساقط ہو جاتی ہیں اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ عبادات ترک کر دیتا ہے بلکہ یہ ہیں کہ عبادات کی بجا آوری میں جواسے تکلیف ہوتی تھی وہ ساقط ہو جاتی ہے۔اب عبادات محبوبات نفس میں شامل ہو گئیں جیسے اور کھانا پینا وغیرہ اس کے محبوبات نفس تھے ایسے ہی نماز، روزہ ہو گیا۔خدا تعالیٰ جیسا وفادار اور کوئی نہیں۔دوستی اور اخلاص کا حق جیسے وہ ادا کر سکتا ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔انسان بڑے جوش والا ہے وہ صبر سے حقوق ادا نہیں کر سکتا جلدی بے صبر نہیں ہونا چاہیے۔صحبت کا اثر ہماری جماعت کو چاہیے کہ وقتاًفوقتاً ہمارے پاس آتے رہیں اور کچھ دن یہاں رہا کریں۔انسان کا دماغ جیسے خوشبو سے حصہ لیتا ہے ویسے ہی بدبُو سے بھی حصہ لیتا ہے اسی طرح زہریلی صحبت کا اثر اس پر ہوتا ہے۔مخالفین کی موجودہ حالت پر فرمایا کہ مکہ معظمہ کی حالت کا تو کسی نے معائنہ نہیں کیا مگر اب اس وقت کی حالت دیکھ کر پتہ لگتا ہے کہ ایسا ہی