ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 401

ایک شاعرانہ مذاق پر مضمون لکھنا شروع کر دیا۔ہم دوائوں سے کب انکار کرتے ہیں ہم توقائل ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ہر ایک شَے میں بعض فوائد رکھے ہیں چونکہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے متعلق ہمیں قبل ازوقت سوجھا دیا ہے کہ یہ اس کا حقیقی علاج ہے اور یہ اَمر اس نے ہمیں بطور نشان کے دیا ہے تو اب ہم نشان کو کیسے مشتبہ کریں۔جب اﷲ تعالیٰ کوئی نشان دیوے تو اس کی بے قدری کرنا صرف معصیت ہی نہیں بلکہ کفر تک نوبت پہنچا دیتا ہے۔؎ ہر مرتبہ از وجود اثرے دارد گر حفظِ مراتب نہ کنی زندیقی حفظِ مراتب کا لحاظ ان لوگوں کے وہم گمان میں کبھی نہیں آتا یا افراط ہے یا تفریط۔اسی لیے سمجھ اسی کا نام ہے خیر اب اس کے مقابلہ میں بھی لکھنے کا عمدہ موقع مل گیا ہے بہتر ہے کہ ایک اشتہار میں مختصراً اپنے دعاوی اور دلائل لکھ دیئے جاویں۔معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اب بہانے ڈھونڈتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں جب تبلیغ کا کوئی عمدہ ذریعہ نہ تھا تو اﷲ تعالیٰ اسی طرح دشمنوں کے ہاتھوں سے تبلیغ کراتا تھا کوئی شاعر آتا تو شعر کہہ جاتا لوگ برے برے پیرائوں میں آپ کا ذکر کرتے مگر سعید روحیں انہی کے الفاظ سے آپ کی طرف کھچی چلی آتیں۔یہ ہمیشہ سے سنّت اﷲ ہے۔سعادت کے نشان بٹالہ میں طاعون کا ذکر سن کر فرمایا کہ یہ سر زمین بہت گندی ہے خوف ہے کہیں تباہ نہ ہو جاوے۔اﷲ کا رحم ہے اس شخص پر جو امن کی حالت میں اسی طرح ڈرتا ہے جس طرح کسی پر مصیبت وارد ہوتی ہو تو وہ ڈرے جو امن کے وقت خدا کو نہیں بھلاتا خدا اسے مصیبت کے وقت میں نہیں بھلاتا اور جو امن کے زمانے کو عیش میں بسر کرتا ہے اور مصیبت کے وقت دعائیں کرنے لگتا ہے تو اس کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔جب عذابِ الٰہی کا نزول ہوتا ہے تو توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔پس کیا ہی سعید وہ ہے جو عذابِ الٰہی کے نزول سے پیشتر دعا میں مصروف رہتا ہے صدقات دیتا ہے اور اَمرِ الٰہی کی تعظیم اور خلق اﷲ پر شفقت کرتا ہے۔اپنے اعمال کو سنوار کر بجالاتا ہے یہی ہیں جو