ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 402 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 402

سعادت کے نشان ہیں۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح سعید اور شقی کی شناخت بھی آسان ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ جو علاج فرماتا ہے وہ حتمی ہوتا ہے گھر میں کوئی بیمار تھا اس کی تکلیف کی خبر سن کر حضرت اقدس جھٹ اندر تشریف لے گئے اور دوا دے کر آئے تو آتے ہی فرمایاکہ اصل میں انسان جوں جوں اپنے ایمان کو کامل کرتا ہے اور یقین میں پکا ہوتا جاتا ہے توں توں اﷲ تعالیٰ اس کے واسطے خود علاج کرتا ہے۔اس کو ضرورت نہیں رہتی کہ دوائیں تلاش کرتا پھرے وہ خدا کی دوائیں کھاتا ہے اور خدا خود اس کا علاج کرتا ہے۔بھلا کوئی دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ فلاں دوا سے فلاں مریض ضرور ہی شفا پا جاوے گا ہرگز نہیں۔بلکہ بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ دوا الٹا ہلاکت کاموجب ہو جاتی ہے۔اور ان علاجوں میں سو دھندے ہوتے ہیں بعض وقت تشخیص میں غلطی ہوتی ہے بعض وقت دواؤں کے اجزاء میں غلطی ہو جاتی ہے۔غرض حتمی علاج نہیں ہو سکتا ہاں خدا تعالیٰ جو (علاج) فرماتا ہے وہ حتمی علاج ہوتا ہے اس سے نقصان نہیں ہوتا۔مگر ذرا یہ بات مشکل ہے نرے کامل ایمان کو چاہتی ہے اور یقین کے پہاڑ سے پیدا ہوتی ہے ایسے لوگوں کا اﷲ تعالیٰ خود معالج ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ دانت میں سخت درد تھی میں نے کسی سے دریافت کیا کہ اس کا کیا علاج ہے؟ اس نے کہا کہ موٹا علاج مشہور ہے۔علاجِ دنداں اخراجِ دنداں۔اس کا یہ فقرہ میرے دل پر بہت گراں گذرا کیونکہ دانت بھی ایک نعمتِ الٰہی ہے اسے نکال دینا ایک نعمت سے محروم ہونا ہے اسی فکر میں تھا کہ غنودگی آئی تو زبان پر جاری ہوا وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ اس کے ساتھ ہی معًا درد ٹھہر گیا اور پھر نہیں ہوا۔غرضیکہ لوگ اعتراض کے واسطے دوڑتے ہیں حقیقت کے واسطے نہیں دوڑتے اور نہ اسے دیکھتے ہیں۔اعتراض کی صورت کوئی آجاوے تو ان کے واسطے عید ہو جاتی ہے۔ہم نے کشتی نوح میں کہاں لکھا ہے کہ دوائیں لغو محض ہیں۔ٹیکہ نہ کرانے کی صاف وجہ لکھی ہے کہ چونکہ ہمیں آسمانی ٹیکہ لگایا گیا ہے جو کہ ایک نشان ہے اس لئے اس مادی علاج کو خدا کے نشان میں مشترک کر کے ہم شرک