ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 400 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 400

جمعہ پڑھ کر فرمایا کہ رات میں نے محمد حسین اور چکڑالوی کے متعلق جو مضمون لکھا تو میں نے دیکھا کہ یہ دونوں میرے سامنے موجود ہیں تو میں نے ان کو کہا خُسِفَ الْقَمَرُ وَ الشَّمْسُ فِیْ رَمَضَانَ فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ۔اور آلاء سے مُراد میں خود ہوں۔۱ ۲۵؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ بعد ادائے نماز مغرب لوگوں کا دستور ہے کہ وہ پروانہ وار ایک دوسرے پر گرتے ہیں اور ہر ایک کی کوشش ہوتی ہے کہ ایک قدم آگے ہو جائوں تاکہ دہن مبارک سے جو کلمات طیّبات نکلتے ہیں ان کے الفاظ کان تک پہنچیں اس لئے احباب میں بیٹھنے کی کشمکش دیکھ کر فرمایا کہ ’’آپس میں مل جل کر بیٹھ جائو جس قدر تم آپس میں محبت کرو گے اسی قدر اﷲ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔‘‘ مضمون زیر قلم لکھنے کی نسبت ایک کے استفسار پر فرمایا کہ یونہی امتحاناً میں نے دیکھنا چاہا تھا کہ کچھ لکھ سکتا ہوں کہ نہیں مگر چند ہی حرف لکھنے کے بعد سر کو چکر آگیا اور میں گرنے کے قریب ہو گیا۔مصری اخبار اَللِّوَاء کے اعتراض کا جواب مصر کے اخبار اَللِّوَاء نے کشتی نوح کی کسی آیت پر اعتراض کیا تھا کہ یہ لوگ قرآن کو نہیں سمجھتے اور ان کو پتہ نہیں ہے کہ مَامِنْ دَآءٍ اِلَّا وَلَہٗ دَوَآءٌ حدیث میں ہے یہ اس پر ایمان نہیں لائے۔آپ نے فرمایا کہ اس نے ہمارے مطلب کو نہیں سمجھا اور پہلی آیت کو دیکھ کر صرف اپنے اندرونی بغض کی وجہ سے