ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 387

مولوی محمد حسین بٹالوی کا انجام ایک شخص نے ذکر کیا کہ گو محمد حسین صاحب بٹالوی آخر کار ہماری جماعت میں داخل ہوں مگر ان پنجابی تصانیف اوردیگر تحریروں میں جو کچھ ان کی گت بن چکی ہے وہ صفحہ روز گار پر یاد گار رہے گی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہیہ تمام ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جاوے گا خدا کی شان ہے کہ جو ارادے (ذلّت پہنچانے کے) اس کے ہمارے لئے تھے وہ تمام اس پر الٹے پڑے خود اس کی اپنی جماعت میں اس کو عزّت نہ ہوئی۔خدا تعالیٰ کی قدرتیں فرمایا کہ خدا کی قدرتیں عجیب ہیں جس کو چاہے عنایت کرے یہ تمام اس کی لہریں ہیں انسان کی غلطی ہے کہ ادھر ادھر پیر مارتا ہے جس قدر وہ لذّات چاہتا ہے خدا تعالیٰ قادر ہے کہ حلال ذریعہ سے پہنچاوے۔کوئی دوست کسی کی ایسی پاسداری نہیں کرتا جیسے وہ کرتا ہے۔اس کے خلق اسباب میں عجب مزا آتا ہے۔قتل کے مقدمہ پر نظر ڈالو کہ کس طرح اﷲ تعالیٰ نے سب میں پھوٹ ڈال دی۔میرا تو یہ خیال ہے کہ اگر حاکم کے سامنے بھی آدمی جاوے تو اسے ہرگز نہ کوسے کیونکہ اگر خدا کو یہ راضی کرتا ہے تو وہ خود اس کے دل کو اس کی طرف پھیر دے گا سب کچھ اسی کے پنجہ میں ہے جسے جس طرف چاہے پھیر دے اس رنگ میں ایک مزا وجودی مذہب کا آجاتا ہے مگر ان کا قدم ذرا آگے پھسلا ہوا ہے لیکن اگر یہاں تک قدم نہ پڑے تو پھر توحید کا بھی مزا نہیں آتا۔سب سے زیادہ ضروری شَے خدا کی ہستی پر یقین ہے دراصل لوگوں کو شبہات پڑ گئے ہیں اس لئے وہ گناہ سے پر ہیز نہیں کرتے ہر ایک میں کچھ نہ کچھ غفلت کا حصہ رہ جاتا ہے۔اسی طرح خدا اب چاہتا ہے کہ یہ لوگ سمجھ لیویں جس طرح نوحؑ کے زمانہ میں اس کے بیٹے نے کہا تھا کہ میں پہاڑ کی پناہ میں آگیا ہوں۔اسی طرح یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ٹیکہ کی پناہ میں طاعون سے آجاویں گے۔سب سے زیادہ