ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 388

ضروری شَے خدا کی ہستی پر یقین ہے بغیر اس یقین کے اعمال میں برکات ہرگز پیدا نہیں ہوتیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے کہا کہ چلو ذرا ہم ہی چلے چلیں۔اگر لوگ آج ہی توحید پر قائم ہو جاویں تو آج ہی یہ بلا جاتی رہتی ہے۔خدا انسان کے اعمال کو دیکھتا ہے کہ توحید پر وہ قائم ہیں کہ نہیں۔بہت سے عمل توکّل کے برخلاف، توحید کے برخلاف ہوتے ہیں خواہ وہ کسی طرح سے لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہے مگر وہ اس میں جھوٹا ہوتا ہے اور یہی فسق ہے آج کل جس قدر اسباب پر بھروسہ ہے اس کی نظیر زمانہ سابق میں نہیں ملتی۔اگرچہ ان وقتوں میں فسق و فجور ہوتا تھا مگر خدا کا خوف بھی دلوں میں ہوتا تھا ایک وقت آتا ہے کہ لوگ یَامَسِیْحَ الْـخَلْقِ عَدْوَانَا کہیں گے مگر اس وقت وہ سب نَاس ہی رہ جائیں گے جیسے رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النّصـر : ۳) مگر ایسے وقت پر ان لوگوں کو ایمان چنداں فائدہ نہیں دیتا۔خدا فرماتا ہے قُلْ يَوْمَ الْفَتْحِ لَا يَنْفَعُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اِيْمَانُهُمْ (السّجدۃ : ۳۰) اس سے طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا کی حقیقت بھی معلوم ہوتی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ توبہ قبول نہ ہو گی بلکہ خدا اپنے فضل سے بخشے تو بخشے ان کی توبہ کوئی حقیقت نہ رکھے گی۔یہ اَمر خدا کے اختیار میں ہوگا جیسے فرمایا اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ (ہود: ۱۰۹) اور مومنوں کے حق میں ہے عَطَآءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ(ہود: ۱۰۹)۔طاعون مامور ہے اور لوگوں کےلئے ایک تازیانہ ہے طاعون بھی مامور ہے اس کا کیا قصور جیسے اگر ایک شخص سپاہی ہو تو خواہ اسے اپنے بھائی حقیقی کے نام وارنٹ ملے تو اسے اس کو گرفتار ہی کرنا پڑے۔کیونکہ فرض منصبی ہے میں تو خدا کا شکر کرتا ہوں کہ لوگوں کو سیدھا کرنے کا وقت اب آگیا ہے خدا کی رحمت عظیم ہے کہ اپنی طرف سے خود ہی ایک تازیانہ مقرر کر دیا کہ یہ لوگ غافل نہ رہیں۔اب یہ لوگ سالک نہ رہے بلکہ مجذوب ہوئے کیونکہ خود خدا نے دستگیری کی۔ہماری جماعت میں ہماری طرف سے نصائح کا سلسلہ تو جاری تھا مگر اس کا اثر کچھ کم ہی ہوتا تھا اب اس نے طاعون کا تازیانہ چلایا کیونکہ طاعون کو دیکھ کر ان لوگوں کے دل متاثر ہوں گے اور ان نصائح کو خوب موقع سمجھیں گے اب ان لوگوں کے لئے ایک عمدہ موقع اولیاء اور اصفیاء بننے کا ہے ورنہ آرام کے زمانہ میں ان نصائح کا کیا اثر ہوتا۔بعض وقت