ملفوظات (جلد 3) — Page 386
ایک رؤیا شہ نشین پر تھوڑی دیر بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مجھے رؤیا ہوا ہے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک آدمی سر سے ننگا میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے میرے پاس آیا ہے اس سے مجھے سخت بدبو آتی ہے میرے پاس آکر کہتا ہے کہ میرے کان کے نیچے طاعون کی گلٹی نکلی ہوئی ہے میں اسے کہتا ہوں پیچھے ہٹ جا۔پیچھے ہٹ جا۔آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ تفہیمِ الٰہی کوئی نہیں۔۱ ۱۷؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز دو شنبہ اعجازِ احمدی اور مخالفین حضرت اقدسؑ آٹھ بجے کے قریب سیر کے لئے تشریف لائے اور قادیان کی مشرقی طرف تشریف لے چلے۔اعجازِ احمدی کا ذکر ہوتا رہا کہ یہ مخالف اب اس کا کیا جواب دے سکتے ہیں۔ہاں بعض یہ کہیں گے کہ اگر ہم چاہیں تو لکھ سکتے ہیں اس پر نواب خان صاحب نے ایک ڈاکٹر صاحب کا ذکر سنایا کہ دہلی میں ایک مولوی نے اعجاز المسیح کو دیکھ کر یہی کہا تھا کہ اگر چاہیں تو ہم لکھ سکتے ہیں مگر کون وقت ضائع کرے حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ یہ وہی مثال ہے کہ ایک شخص نے مشتہر کیا کہ میرے پاس ایک بکری ہے جو شیر کو مار لیتی ہے بشرطیکہ وہ چاہے۔اسی طرح یہ لوگ ارادہ نہیں کرتے یہی ان کا حیلہ ہوتا ہے پھر فرمایا کہ اعجاز احمدی کا اردو حصہ بھی ہمارے تمام رسالوں کا نچوڑ ہے۔مولوی محمد احسن صاحب نے فرمایا کہ حضور رنگ دوسرا ہے۔پھر فرمایا کہ ابھی کیا خبر ہے کہ ہماری جماعت کے کون کون پوشیدہ لوگ ان کے درمیان ہیں وقت آوے گا تو سب آجاویں گے۔اس کی مثال ایک شرابی کی مثال ہے کہ وہ جب تک بیہوش ہوتا ہے تو سب کچھ کہتا رہتا ہے پھر جب ہوش آئی تو سنبھل جاتا ہے اسی طرح ان لوگوں کو بھی حسد اور تعصب کی شراب کی بیہوشی ہے۔