ملفوظات (جلد 3) — Page 385
نوع غفلت کی تھی میرے وہم اور خیال میں بھی کبھی یہ بات نہیں آئی کہ خدا پر بدظنی کی جاوے اور وہ مخلف الوعدہ ہو۔اپنے اِرد گرد ایک دیوارِ رحمت بنالو اس لیے راتوں کو اٹھ کر روئو۔دعائیں مانگو اور اس طرح سے اپنے ارد گرد ایک دیوارِ رحمت بنا لو خدا رحیم کریم ہے وہ اپنے خاص بندہ کو ذلّت کی موت کبھی نہیں مارتا۔(اگر خدا نخواستہ) کوئی ہماری جماعت سے (مَرا تو وہ لوگ اعتراض کریں گے کہ) ذلّت کی موت اسے ہوئی۔کیونکہ اگر ہم اشتہار نہ دیتے تو کسی کو اعتراض کاموقع کب ملتا مگر اب تو ہم نے خود مشتہر کیا ہے اس لئے لوگ ضرور اعتراض کریں گے۔پس تم کو چاہیے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو مجھے امید ہے کہ جو پورے درد والا ہو گا اور جس کا دل شرارت سے دور نکل گیا ہے خدا اسے ضرور بچاوے گا توبہ کرو، توبہ کرو۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مجھے الہام ہوا تھا اردو زبان میں۔’’آگ سے ہمیں مت ڈرا آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے‘‘ حقیقت یہ ہے کہ جو خدا کا بندہ ہو گا اسے طاعون نہ ہو گی اور جو شخص ضرر اٹھاوے گا اپنے نفس سے اٹھاوے گا اگر تم خدا سے صفائی نہیں کرتے تو کوئی طبیب تمہارا علاج نہیں کر سکتا اور نہ کوئی دوا فائدہ بخش سکتی ہے یہ ذمہ داری صرف خدا کا فعل ہے دل کا پاک صاف کرنا بھی ایک موت ہوتی ہے جب تک انسان محسوس نہ کرے کہ میں اب وہ نہیں ہوں جو کہ پہلے تھا تب تک اسے سمجھنا چاہیے کہ میں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔جب اسے معلوم ہو کہ اب میں گندی زندگی جہالت اور طولِ اَمل سے بہت دور آگیا ہوں تو سمجھے کہ اب میں نے تقویٰ پر قدم رکھا ہوا ہے۔نفس بہت دھوکے دیتا ہے بیگانہ مال کی خواہش رکھتا ہے حسد سے دوسرے کے مال کا زوال اور نقصان چاہتا ہے۔تو یہ باتیں آخری اور نفس سے نکلنے کی ہوتی ہیں۔اور یہ وہی آخری وقت ہے۔خدا کا خوف ایسی شَے ہے کہ انسان کو خصّی کر دیتا ہے۔(بوقتِ عشاء)