ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 384

(بوقتِ مغرب) وہی شخص فائدہ اُٹھائے گا جو سچا تقویٰ اختیار کرے گا اس وقت اعجازِ احمدی کے بارہ میں اور اس کے اثر کے متعلق مختلف احباب ذکر اذکار کرتے رہے۔۔۔۔پھر سید عبداللہ صاحب عرب نے حضرت اقدسؑ سے دریافت کیا کہ میرے اطراف میں درد ہوتارہتاہے۔طاعون کاخطرہ ہے اگر حضورؑ اپنا کُرتہ عطا فرمائیں تو میں اسے پہنے رہوں۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ ہم کُرتہ تو دے دیںگے مگر بات یہ ہے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کا کُرتہ نہ ہو تو پھر کوئی شَے کام نہیں آتی۔دیکھو! میں جانتا ہوں کہ گوباربار اﷲ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری اور میری جماعت کی اس ذلّت کی موت سے حفاظت فرمائے گا۔مگر رسمی مسلمان یا بیعت والے کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے جب تک ہمارے ساتھ والے کو حقیقی تقویٰ نصیب نہ ہو۔ایک مسلمان نے ایک دفعہ یہودی کو کہا کہ تو مسلمان ہو جا اس یہودی نے کہا کہ تو اگر چہ مسلمان ہے مگر تو کوئی عمدہ آدمی نہیں ہے اس لئے تم صرف صورت پر نازنہ کرو بلکہ حقیقت کام آتی ہے۔سنو!ہمارے ہاں ایک دفعہ ایک لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام خالد رکھا گیا جس کے معنے ہیں ہمیشہ رہنے والا اور پھر اسی دن اسے دفن کر آئے وہ مَر گیا اور خالد کا لفظ اس لڑکے کے کوئی کام نہیں آیا۔اسی طرح ہمیشہ انسان کے کام میں حقیقت اور روحانیت ہی کام دے گی۔میرا دل ہرگز قبول نہیں کرتا کہ ہماری جماعت میں جو سچاتقویٰ اور طہارت رکھتا ہے اور خدا سے اسے سچا تعلق ہے پھر خدا اسے ذلّت کی موت مارے۔اگر چہ طاعون مختلف وقتوں میں آتی رہی ہے مگر ہر زمانہ کا حکم الگ الگ ہے بعض وقتوں میں ایسا کوئی آدمی نہ تھا جو اس وقت تم میں بول رہا ہے پس ایسے وقت اللہ تعالیٰ فرق کرنا چاہتا ہے اور وہی شخص فائدہ اٹھاوے گا جو خدا کے منشا کو سمجھ کر سچی تقویٰ اختیار کرے گا اور خدا سے کوئی فرق نہ رکھے گا۔خدا نے ہمیں خوب سمجھا دیا ہے کہ جو دل سعی اور فرق کرنے والے ہیں ان سے یہ عذاب خدا نے پھیر دیا ہے اس لئے ایک متقی کب اس میں شریک ہو سکتا ہے اگر ہماری جماعت میں سے کوئی موت طاعون کی ہو تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ اس میں کوئی