ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 369 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 369

مبائعین کی خوش قسمتی آج کے مبائعین میں سے ایک نے کچھ اظہار محبت کے کلمات کہے حضرت اقدسؑ نے فرمایاکہ تم بڑے خوش قسمت ہو یہ جو بڑے بڑےمولوی تھے ان کے لئے خدا نے دروازے بند کر دیئے اور تمہارے لئے کھول دئیے خدا کا تم پر بہت احسان ہے۔پھر دعاکی درخواست پر فرمایاکہ میں اپنے دوستوں کے لئے پنج وقتہ نمازوں میں دعاکرتاہوں اورمیں توسب کوایک سمجھتاہوں۔ایک پنجابی نظم اس کے بعد امر تسر ی صاحب نے اپنی پنجابی نظم سنائی۔جس میں انہوں نے اپنے ایک خواب کا ذکر اور حضرت اقدس ؑکی زیارت کاشوق اوربیعت کی کیفیت اور حضرتؑکے فیوض و برکات کا ذکر دردِ دل اور دلکش پیرایہ میں کیاہواتھا۔حضرتؐخود بار بار زبان مبارک سے فرماتے تھے کہ ’’درد اور رقّت سے لکھاہواہے ‘‘ سیّد احمد شہید کے شروع کردہ کام کا اتمام ایک مقام پر حضرت اقدسؑنے فرمایاکہ ہند میں دو واقع ہوئے ہیں ایک سید احمد صاحب کا، دوسرا ہمارا۔ان کا کام لڑائی کرنا تھا۔مگر انہوں نے شروع کردی اور اس کا اتمام ہمارے ہاتھوں مقدر تھا جوکہ اب اس زمانہ میں بذریعہ قلم ہورہا ہے اسی طرح عیسٰیؑ کے وقت جونامُرادی تھی وہ چھ۶ سو برس بعد آنحضرتؐکے ہاتھوں سے رفع ہوئی۔خدا بھی فرماتا ہے کہ وہ کامیابی ا ب ہوئی۔دجّال کی دونوں آنکھیں عیب دار ہیں دجّال کے ایک چشم ہونے پر فرمایاکہ میں نے اس کی نسبت یہ بھی سنا یادیکھاہے کہ اس کی دونوں آنکھیں ہی عیب دار ہوں گی۔جیسے کہاکرتے ہیں کہ یک گُل و دیگر بالکل۔اس کے یہ معنی ہیں کہ انہوں نے دوکتابوں پر غور کرنی تھی ایک توریت، دوسرے قرآن۔سو قرآن کے متعلق