ملفوظات (جلد 3) — Page 370
تو رہی نہیں کہ کچھ بھی نہیں دیکھتے اور توریت پر کچھ دھندلی سی نظر ہے کہ اسے اپنی تائیدمیں برائے نام رکھتے ہیں۔۱ ۱۰ ؍ نومبر ۱۹۰۲ء بروزدو شنبہ (بوقتِ فجر) مولوی محمد علی صاحب شاعر سیالکوٹی سے ارشاد فرمایا کہ آپ کومختلف مقامات دیہات میں تبلیغ کے لئے پھرناہوگا۔مولوی صاحب نے بطیب ِخاطر منظور کیا۔اعجازِ احمدی ظہر کی نماز سے پیشتر حضرت اقدس نے مضمون زیر قلم۱ پر فرمایا کہ کلام کامعجزہ آدم سے لے کر آنحضرتؐکے زمانہ تک چار ہزار برس ہوتے ہیں سوائے قرآن کے اور کسی نے نہیں دکھایا اورنہ کسی نے دیکھا۔چونکہ یہ معجزہ ایک ہی کتاب کے متعلق ہے اس لئے مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس پر زور ڈالاجاوے کہ لوگ خوب سمجھ لیویں۔کیاان (مخالف) لوگوں کے پاس قلم نہیں، وقت نہیں یاالفاظ نہیں؟ میراتو ایمان ہے کہ یہ خدا کا نشان ہے اورایک آفتاب کی طرح نظرآتاہے میں اسے بیان نہیں کر سکتا۔خدا تعالیٰ ہی نے سب کچھ کروایاورنہ ہم توسب کچھ چھوڑبیٹھے تھے مَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى ( الانفال : ۱۸)۔کشتی نوح کی اشاعت کثرت سے کی جائے خواجہ کمال الدین صاحب بی اے پلیڈر پشاور سے کوہاٹ ہوتے ہوئے تشریف لائے اور نماز مغرب سے پیشتر مسجد میں حضرت اقدسؑسے نیاز حاصل کی۔خواجہ صاحب نے پشاور اور کوہاٹ کا ذکر سنایا کہ وہاں پر اکثر اشتہارات جو کہ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ میں حضور کی مخالفت میں شائع ہوتے ہیں اس نظر سے پڑھے جاتے ہیں کہ گویا وہ حضور کے اشتہارات ہیں اسی مغالطہ سے سر حد کے لوگوں کے دلوں میں آپ