ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 362

كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ (البقرۃ: ۲۹) کی تشریح اس آیت کے معنے پوچھے گئے۔فرمایا۔انسان پر ایک زمانہ آتاہے کہ وہ نُطفہ ہوتاہے اوراس کاکوئی وجودنہیں ہوتا پھر مَدَارِجِ سِتَّہ سے گذر کر اس پر ایک موت آتی ہے اور پھر اسے ایک احیاء دیا جاتا ہے۔یہ ایک مسلّم مسئلہ ہے کہ ہر حیات سے پہلے ایک موت ضرور آتی ہے۔اس آیت میں صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ ایک زمانہ اُن پر ایساگذرا ہے کہ وہ بالکل مُردہ تھے یعنی ہر قسم کی ضلالت اورظلمت میں مبتلا تھے پھر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ زندگی عطا ہوئی اور پھر ان کی تکمیل اورایک موت ان پر وارد ہوئی جو فنا فی اللہ کی موت تھی اس کے بعد ان کوبقاباللہ کا درجہ ملا اورہمیشہ کے لئے زندگی پائی۔ایک حدیث کا ذکر ایک حدیث مولوی فتح الدین نے پیش کی جس کی تاویل کر کے اسے مسیح موعود کے وجود پر چسپاں کیا جاتا تھا۔فرمایا۔کیا ضرورت ہے اس بات کی خدا تعالیٰ نے کھلی کھلی تائیدیں ہمارے لئے رکھ دی ہیں کیا مَنَاکَمِ ثَلَاثَۃ ہمارے مخالفوں کے لیے کافی نہیں ایک بخاری کا مِنْکُمْ ( اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ) مسلم کا مِنْکُمْ (اَمَّکُمْ مِنْکُمْ )اور سب سے بڑھ کر قرآن کا مِنْکُمْ (وَعَدَاللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْامِنْکُمْ) (النّور : ۵۶ ) بیعت کرنے والے ہمارے بدن کے جُزو ہوگئے منشی نعمت علی صاحب نے کھانے کے لئے عرض کیا۔فرمایا۔تکلّف کرنے کی کیا ضرورت ہے ہم کھانا کھا چکے ہیں جب تم لوگوں نے بیعت کر لی تو گویا ہمارے بدن کے جزو ہوگئے پھر الگ کیارہ گیا۔یہ باتیں تو اجنبی کے لئے ہوسکتی ہیں۔جماعت کی اعجازی ترقی جماعت کی اعجازی ترقی کے ذکر پر فرمایا کہ ہماری طرف سے کوئی سعی نہیں کی جاتی، ہمارے واعظ نہیں، بایں ہمہ