ملفوظات (جلد 3) — Page 361
ہوجاتی ہے۔اس وقت جس شخص کوخدا اپنی تجلّیات کامظہر قرار دیتا ہے وہ اس کی ہستی توحید اورجلال کے اظہار کاباعث ٹھہرتا ہے اوروہ اَنَا مِنْکَ کامصداق ہوتاہے۔اگر کوئی یہ کہے کہ خدا تعالیٰ کو کسی ذریعہ کی کیاضرورت ہے؟ تو ہم کہیں گے کہ یہ سچ ہے اس کوکوئی ضرورت نہیں ہے مگراس نے اس عالَمِ اسباب میں ایسا ہی پسند فرمایا ہے۔دیکھو! پیاس لگتی ہے یابھوک لگتی ہے مگر یہ پیاس اور بھوک پانی اورکھانے کے بغیرفرو نہیں ہوسکتی۔اسی طرح جس قدر قوتیں اورطاقتیں ہیں اوران کے تقاضے ہیں وہ اسی طرح پورے ہوتے ہیں اسی طرح دنیاکی تمدنی زندگی کی اصلاح اور انتظام کے لئے اس نے بادشاہوں اور حکومت کے سلسلے کاانتظام رکھا ہے جو شریروں کو سزا دیتے اور مخلوق کے حقوق ان کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کرتے ہیں۔خداخود اتر کر تو نہیں آتا۔حالانکہ یہ سچ ہے کہ وہی حفاظت کرتاہے اورشریروں کی شرارت سے بچاتا اور محفوظ رکھتاہے۔اسی طرح روحانی نظام کے لئے بھی اس کا ایسا ہی قانون ہے۔سچی پاکیز گی اور طہارت اوروہ ایمان جس سے معرفت، بصیرت اوریقین پیدا ہو خدا ہی کی طرف سے آتا ہے اوراس کامامور لے کر آتا ہے اور وہ ذریعہ ٹھہرتاہے خدا کے جلال اور عظمت کا۔اورو ہ اس وقت آتا ہے جب دنیا میں سچی پاکیزگی نہیں رہتی اور خدا سے دوری اور بُعد ایسا ہوتاہے کہ گویا خداہے ہی نہیں۔اورجب دنیا کے ہاتھ میں صرف پوست رہ جاتاہے اور مغز نہیں رہتا تب خدا اپنے کسی بندے کے ذریعہ اپنا ظہور فرماتا ہے چونکہ اس زمانہ میں اس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے مجھے مخاطب کر کے فرمایا اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ۔بابوکاہن چند۔آپ نے رسالہ میں اورمعنے کئے ہیں۔فرمایا۔ہم نے اور معنے کبھی نہیں کئے ہیں۔ہم توہمیشہ یہی معنے کرتے ہیں۔آتھم نے بھی یہ سوال ہم سے کیا تھا اوراس کویہی جواب دیا گیا تھا۔انسان کو چاہیے کہ انصاف ہاتھ سے نہ دے یہ تو حلاوت کی بات ہے انسان اس سے اپنا ایمان بڑھاتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتو پھر سلسلہ ہی ختم ہوجاتا۔آج کل لوگ خدا کے قائل نہیں رہے بلکہ دہریہ ہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے اپنے جلال کو ظاہر کرنے کے واسطے ایک انسان کودنیا میں بھیجا ہے۔