ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 360

اب اس الہام میں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَنَا مِنْکَ اس کایہ مطلب اور منشا ہے کہ میری توحید میرا جلال اور میری عزّت کا ظہور تیرے ذریعہ سے ہوگا۔ایک وقت آتا ہے کہ زمین فسق وفجور اورشر و فساد سے بھر جاتی ہے لوگ اسباب پرستی میں ایسے فنا اور منہمک ہوتے ہیں کہ گویا خدا کانام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ایسے وقتوں میں خدا تعالیٰ اپـنے اظہار کے واسطے ایک بندہ اپنی طرف سے بھیج دیتا ہے ہندوؤں نے جواوتار کامسئلہ مانا ہے یہ بھی اسی کاہمرنگ ہے گویا خدا تعالیٰ ان کے اندر مجازی طور پر بولتا ہے۔اس زمانہ میں اسباب پرستی اور دنیا پرستی اس طرح پھیل گئی ہے خدا تعالیٰ پر بھروسہ اورایمان نہیں رہا۔دہریت اور الحاد کا زور ہے جو کچھ حالت اس وقت زمانے کی ہورہی ہے اس پر نظر کر کے کہناپڑتا ہے کہ زمانہ زبانِ حال سے پکار رہاہے کہ کوئی خدانہیں۔عملی حالت ایسی کمزور ہوگئی ہے کہ کھلی بے حیائی اور فسق وفجور بڑ ھ گیا ہے یہ ساری باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ دلوں سے خدا پر ایمان اوراس کی ہیبت اُٹھ گئی ہے اور کوئی یقین اس ذات پر نہیں۔ورنہ یہ کیا بات ہے کہ انسان کو اگر معلوم ہوجاوے کہ اس سو راخ میں سانپ ہے تووہ کبھی اس میں اپنا ہاتھ نہیں ڈالتا پھر یہ بے حیائی اور فسق وفجور۔اتلافِ حقوق جوبڑھ گیا ہے کیا اس سے صاف معلوم نہیں ہوتا کہ خدا پر ایمان نہیں رہا یا یہ کہوکہ خداگم ہوگیا ہے۔اس وقت خدا تعالیٰ نے اپنے ظہور کا ارادہ فرمایا اور مجھے مبعوث کیا اس لئے مجھے کہا کہ اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَا مِنْکَ۔اوراس کے یہی معنے ہیں کہ میراجلال اور میری توحید و عظمت کاظہور تیرے ذریعہ ہوگا۔چنانچہ وہ نصرتیں اور تائیدیں جواس نے اس سلسلہ کی کی ہیں اورجونشانات ظاہر ہوئے ہیں وہ خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی توحید اور عظمت کے اظہار کے ذریعہ ہیں۔یہ اَمر کوئی ایسااَمر نہیں کہ مشتبہ یا مشکوک ہو بلکہ تمام مذاہب میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے کہ ایک وقت خدا کے ظہور کا آتا ہے اورایک وقت ہوتا ہے کہ خدا اس وقت گم ہوا ہوا سمجھاجاتاہے یہ وہ وقت ہوتاہے جب اس کی ہستی اورتوحید اور صفات پر ایمان نہیں رہتا اورعملی رنگ میں دنیا دہریہ