ملفوظات (جلد 3) — Page 359
گئے ہیں گویا فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ہوگیا ہے۔ان کے سوا ان لوگوں کے اور ایسے عقیدے ہیں کہ اگر ان کاعیسائیوں کوپتہ لگ جاوے تو وہ ان کے ساتھ بحث کرنے کو انہیں ڈنکے کی چوٹ بلاویں یہ لوگ تو خطرناک ہیں انہوں نے اگر اسے خدا نہیں بنایا تو اس کے خدا بنانے میںکسر بھی نہیں چھوڑی۔ان کا وہی حال ہے جس طرح کوئی کہے کہ فلاں شخص مَرا تو نہیں مگر ہاں اس کی نبض بھی نہیں، سانس بھی نہیں لیتا، پیٹ بھی پھول گیا ہے، حرکت بھی نہیںکرتا، غرض ساری علامات مُردوں کی ہیں مگر مَرا نہیں۔یہی ان لوگوں کاحال ہے کہ مسیح کوخدانہیں کہتے مگر ساری خدائی کی صفات کواس میں جمع کر دیتے ہیں ان عیسائیوں کو ہم کیا ردّ دیں ہمارے تو یہ اندر ونی عیسائی ہی اُمّت پر چُھری چلارہے ہیں۔۱ الحکم میں درج ہے فرمایاکہ بے شک ان لوگوں پر جومسیح کوزندہ آسمان پر بٹھاتے ہیں یہ سوال معقول ہے انسان اپنے اقرار سے پکڑا جاتاہے ان مسلمانوں نے خود اقرار کر لیا ہے کہ مسیح زندہ ہے اورآسمان پر بیٹھا ہے اور ایسا ہی اس کے معجزات اور اس کا خالق طیور ہونابہت سی باتیں ہیں جن سے عیسائیوں کو مدد ملی ہے ہم عیسائیوں کو کیا روئیں ہمارے گھرمیں خود یہ مسلمان اسلام پر چُھری چلا رہے ہیں۔الہام اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ کے معنی لالہ کاہن چند صاحب مختار عدالت بٹالہ ( جو توحید پسند ہندو ہیں ) نے آپ سے الہام اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ کی تشریح وتفسیر کے متعلق سوال کیا کہ دافع البلاء میں جو یہ الہام درج ہے اس سے کیا مُراد ہے؟ فرمایا۔اس کاپہلا حصہ تو بالکل صاف ہے کہ تو جو ظاہر ہوا یہ میرے فضل اور کرم کانتیجہ ہے اور جس انسان کوخدا تعالیٰ مامور کر کے دنیامیں بھیجتاہے اس کواپنی مرضی اور حکم سے مامور کر کے بھیجتا ہے جیسے حکّام کابھی یہ دستور اورقاعدہ ہے۔