ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 345 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 345

ملفوظات حضرت مسیح موعود له لد ۴ رنومبر ۱۹۰۲ء بروز سه شنبه ( بوقت سیر ) جلد سوم حضرت اقدس سیر کے لئے تشریف لائے۔ علاقہ جہلم سے دو شخص بہت ضعیف العمر حضرت اقدس کی زیارت کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے بوجہ ضعیف العمری کے وہ چل نہیں سکتے تھے حضرت اقدس ان کی خاطر ٹھہر گئے اور ان کے حالات دریافت کرتے رہے۔ پھر حضرت اقدس مشرق کی طرف چلے۔ سرور آیت مَا ذَا أَجِبْتُمْ قَالُوا لا علم لنا کی تفسیر سید رو شاہ صاحب نے حضرت اقدس سے سوال کیا کہ قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن ہر ایک رسول اپنی اُمت کے حالات سے لا سے لاعلمی ظاہر کرے گا جیسے قرآن شریف میں ہے يَوْمَ يَجْمَعُ اللهُ الرُّسُلَ فَيَقُولُ مَا ذَا أَجِبْتُمْ قَالُوا لَا عِلْمَ لَنَا ( المائدة : ١١٠ ) تو پھر اس آیت کے مفہوم کے مطابق اگر مسیح بھی اپنی امت کے حالات سے لاعلمی ظاہر کریں اگر چہ وہ آخر زمانہ میں پھر آکر چالیس برس ان لوگوں میں گزار بھی جاویں تو آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے روبرو کا ذب کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ لا علمی انبیاء کی ان کی اس اُمت کے بارے میں ہوتی ہے جو ان کی وفات کے بعد ہوتی ہے مسیح بھی کہتا ہے كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمُ ( المائدة : ۱۱۸) تو پھر اگر ان کو علم نہیں تو وہ شہید کس طرح ہوئے اور کس بات کے ہوئے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حالات سے تو لاعلمی ظاہر کر سکتے ہیں مگر صحابہ کرام کی نسبت نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کو ان کے حالات ت م معلوم تھے اور آپ ان میں رہتے تھے۔ اس قسم کی لاعلمی سے وہی لا علمی مراد ہے یعنی اس امت کا ذکر جو کہ نبی کے بعد آیا کرتی ہے یا بہت آخری وقت پر آتی ہے کہ اسے نبی کی صحبت سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔ ایک تعبیر پھر ایک صاحب نے خواب سنایا کہ اس نے رات کو ہاتھی خواب میں دیکھا اور یہ کہ حضرت اقدس اس کے سر کو تیل لگا رہے ہیں حضرت اقدس نے تعبیر فرمائی کہ رات کے وقت ہاتھی دیکھنا عمدہ ہوتا ہے اور تیل لگا نا بھی زینت ہے یہ بھی اچھا ہے۔