ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 346

۴؍نومبر ۱۹۰۲ ء بروز سہ شنبہ (بوقتِ سیر) حضرت اقدس سیر کے لئے تشریف لائے۔علاقہ جہلم سے دو شخص بہت ضعیف العمر حضرت اقدس کی زیارت کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے بوجہ ضعیف العمری کے وہ چل نہیںسکتے تھے حضرت اقدس ان کی خاطر ٹھہر گئے اوران کے حالات دریافت کرتے رہے۔پھر حضرت اقدس مشرق کی طرف چلے۔آیت مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ قَالُوْا لَاعِلْمَ لَنَا کی تفسیر سید سرور شاہ صاحب نے حضرت اقدس سے سوال کیاکہ قرآن شریف سے معلوم ہوتاہے کہ قیامت کے دن ہر ایک رسول اپنی اُمّت کے حالات سے لاعلمی ظاہر کرے گا جیسے قرآن شریف میں ہے يَوْمَ يَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا (المائدۃ : ۱۱۰) تو پھراس آیت کے مفہوم کے مطابق اگر مسیحؑ بھی اپنی امت کے حالات سے لاعلمی ظاہر کریں اگر چہ وہ آخر زمانہ میں پھر آکر چالیس برس ان لوگوں میں گذار بھی جاویں توآیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ کے لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو کاذب کیسے ٹھہر سکتے ہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایاکہ یہ لاعلمی انبیاء کی ان کی اس اُمّت کے بارے میں ہوتی ہے جو ان کی وفات کے بعد ہوتی ہے مسیح بھی کہتاہے كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ ( المائدۃ : ۸ ۱۱) تو پھر اگر ان کو علم نہیں تو وہ شہید کس طرح ہوئے اور کس بات کے ہوئے اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے حالات سے تو لاعلمی ظاہر کر سکتے ہیں مگر صحابہ کرام کی نسبت نہیں کر سکتے کیونکہ آپ کوان کے حالات معلوم تھے اور آپ ان میں رہتے تھے۔اس قسم کی لاعلمی سے وہی لا علمی مُرادہے یعنی اس امت کا ذکر جو کہ نبی کے بعد آیاکرتی ہے یابہت آخری وقت پر آتی ہے کہ اسے نبی کی صحبت سے کچھ حصہ نہیںملتا۔