ملفوظات (جلد 3) — Page 344
مباحثہ مُد میں ہماری فتح ہوئی اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور تھوڑی دیر مجلس کی مُد کے مباحثہ کا ذکر ہوتا رہا کہ درحقیقت تو ہم نے فتح پالی ہے صرف اتنی بات ہے کہ وہ دیہات کے لوگ تھے ان کو ان باریک باتوں کی سمجھ نہیں آئی مجھے خوشبو آتی ہے کہ آخر کار فتح ہماری ہے دسمبر کے آخر تک جو نشان ظاہر ہونے والے ہیں شاید یہ بھی ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ہوجاوے یہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے جیسے فرمایا وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ (القصص : ۸۴) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی تیرہ برس تک مکروہات ہی پہنچتے رہے۔(بوقتِ عصر) اس وقت حضرت اقدس تشریف لا کر مباحثہ مُد کے متعلق ہی ذکر کرتے رہے۔خدا کے بر گزیدوں کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے کہ جب ایک بات کی طرف توجہ ہوجاوے تو پھر رات دن اسی کی طرف توجہ رہتی ہے گویا کہ بالکل اس میںمستغرق ہیں اوردنیا و ما فیہاکی خبر نہیں۔مہمان تکلّف نہ کیاکریں بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس حسب معمول جلوس فرما ہوئے۔میر صاحب نے عبدالصمد صاحب آمدہ از کشمیر کو آگے بلا کر حضور کے قدموں کے نزدیک جگہ دی اور حضرت اقدس سے عرض کی کہ ان کویہاں ایک تکلیف ہے کہ یہ چاولوں کے عادی ہیں اوریہاں روٹی ملتی ہے۔حضرت اقدس نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِيْنَ ( صٓ : ۸۷ ) ہمارے مہمانوںمیں سے جوتکلّف کرتاہے اسے تکلیف ہوتی ہے اس لئے جوضرورت ہو کہہ دیاکرو۔پھر آپ نے حکم دیا کہ ان کے لئے چاول پکوا دیاکرو۔