ملفوظات (جلد 3) — Page 327
مذہب کی جَڑ خدا شناسی ہے مذہب کی پہلی جزو اور جڑ خدا شناسی ہے جس کا پہلا قدم ہی غلط اور بے ٹھکانے ہے دوسرا قدم اس کا کب ٹھکانہ پر ـپڑے گا۔اب اس اصل پر مذاہب کی شناخت کرلو۔سناتن دھرم سناتن دھرم کو لو انہوں نے کوئی جڑی بوٹی پتھر درخت چاند سورج غرض مخلو ق میں کوئی چیز نہیں چھوڑی جس کی پر ستش نہیں کی اور جس کو خدا نہیں بنایا۔اب جس مذہب کا خدا شناسی کے متعلق یہ عقیدہ ہو اس کو علومِ حقہ سے کب حصہ مل سکتا ہے؟ اس کی اخلاقی حالتیں کیوں کر درست ہو سکتی ہیں؟ وہ تو ریل کو بھی دیکھیں تو اسے بھی سجدہ کرنے کو تیار ہیں اور اسے خدا ماننے لگتے ہیں۔آریہ دھرم پھر ان لوگوں میں سے ایک اورفرقہ ہے جو اپنے آپ کواصلاح یافتہ فرقہ سمجھتا ہے اور اس کوآریہ کہتے ہیں۔آریہ کی خداشناسی کایہ حال ہے کہ انہوں نے بر خلاف وید کے خدا کی توحید کازبانی اقرار توکیا ہے گو وید میں اگنی وایووغیرہ کی پرستش کی گئی ہے لیکن یہ لوگ اپنی زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ ہم بتوںکی پوجانہیںکرتے مگر خداشناسی میں باوجود اس اقرار کے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور وہ یہ کہ وہ خدا کو کسی چیز کاخالق نہیں مانتے اور اس کو صرف جوڑنے جاڑنے والامانتے ہیں جب خدا کی اس عظیم الشان صفت سے انکار کیاگیا تو ایساناقص اور ادھورا خداکب کسی کے ماننے میں آسکتا ہے۔پھر انہوں نے خدا کی دوسری صفتوں کا بھی انکار کیا ہے مثلاً وہ مانتے ہیں کہ وہ کسی انسان کو کوئی چیز عطا نہیں کرسکتا جو کچھ کسی کو ملتا ہے اس کے عملوں کی ہی پاداش ملتی ہے۔پھر انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ اگر گناہ نہ ہوتا تو دنیا کا کام نہ چل سکتا کیونکہ گائے، بکری، بھینس اور دوسری آرام دہ مخلوق نہ ہو سکتی۔اس قسم کا خدا انہوں نے مانا ہے گویا خدا شناسی کے مقام سے یہ مذہب بھی گرا ہوا ہے۔عیسائیت پھر ایک اور مذہب ہے جس کی اشاعت کے لئے کروڑ ہا روپیہ خرچ کیا جاتا ہے اور وہ عیسائی مذہب ہے اس میں خدا شناسی کی اور بھی ردّی حالت ہے وہ اوّل تو سرے