ملفوظات (جلد 3) — Page 326
فرمایا۔علم کیا، اصل ضرورت عمل کی ہے۔قِیَا مٌ فِیْ مَا اَقَامَ اللہُ ایک شخص نے ملازمت چھوڑ کر تجارت کے متعلق مشورہ پوچھا۔فرمایا۔نوکری چھوڑنی نہیں چاہیے۔قِیَامٌ فِیْ مَا اَقَامَ اللہُ بھی ضرو ری ہے بلا وجہ ملازمت چھو ڑ نا اچھا نہیں ہے۔طلب حق کے لئے ضرو ری امور ایک ہندو نوجوان نے (جو طالب حق اپنا نام رکھتا تھا ) عرض کی کہ حضور میں ایک عرصہ سے طلب ِ حق چاہتا ہوں مگر مجھے ابھی تک وہ راہ نہیں ملی۔فرمایا۔طلبِ حق کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہے اول عقل سلیم چاہیے بعض لوگ طلب حق تو چا ہتے ہیں مگر غبی اور بلید طبع ہوتے ہیں اور قوت فیصلہ نہیں رکھتے اس لئے جو کچھ سمجھا یا جاوے اس کو سمجھ نہیں سکتے اور کل مذاہب ان کے سامنے پیش کئے جاویں تو وہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ ان میں سے حق کس کے ساتھ ہے یہ بیماری ہے طبیبوں نے اس کو سو فسطائی عقل لکھا ہے ان پر وہم غالب ہوتا ہے اس لئے اوّل طالبِ حق کے واسطے ضروری ہے کہ وہم غالب نہ ہو۔دوم۔قبو لِ حق کے لئے جرأت رکھتا ہو۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ حق کو سمجھ تو لیتے ہیں مگر برادری کے تعلقات نہیں ٹوٹتے ایسے لوگ بزدل ہوتے ہیں یہ بزدلی بھی فائدہ نہیں پہنچاتی۔پہلے پہل جو بچہ مدرسہ میں بھیجا جاتا ہے اس کے سامنے تو اَبجد ہی پیش کی جاتی ہے۔کوئی بڑی کتاب نہیں رکھی جاتی۔اسی طرح مذہب کی پر کھ میں پہلے نسبتاً موٹے موٹے اصولوں میں مقابلہ کر کے دیکھ لینا چاہیے کہ مذہب حق کون سا ہے؟ مجھے تعجب آتا ہے کہ اس وقت مذاہب کامقابلہ ہو رہا ہے اور اَمر حق صاف طور پر معلوم ہو سکتا ہے اور اس ہند ہی میں سب مذاہب موجود ہیں۔سناتن، عیسائی، آریہ، مسلمان وغیرہ بڑے بڑے یہی مذہب ہیں۔