ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 321 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 321

اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا حضرت حکیم الامۃ نے مولوی ابو رحمت حسن صاحب کا ذکر سنایا کہ وہ بڑے اخلاص سے خط لکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ اس آیت پر مخالف اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تہذیب کے خلاف ہے۔فرمایا۔جو خدا تعالیٰ کو خالق سمجھتے ہیں توکیا اس خلق کو لغو اور باطل قرار دیتے ہیں جب اس نے ان اعضا کو خلق کیا اس وقت تہذیب نہ تھی۔خالق مانتے ہیں اور خلق پر اعترا ض نہیں کرتے ہیں تو پھر اس ارشاد پر اعتراض کیوں؟دیکھنا یہ ہے کہ زبان عرب میں اس لفظ کااستعمال ان کے عرف کے نزدیک کوئی خلافِ تہذیب اَمر ہے جب نہیں تو دوسری زبان والوں کاحق نہیں کہ اپنے عرف کے لحاظ سے اسے خلافِ تہذیب ٹھہرائیں۔ہر سوسائٹی کے عرفی الفاظ اور مصطلحات الگ الگ ہیں۔۱ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۰۲ء (صبح کی سیر) دُرِّ حکمت طاعون کے ذکر پر ضمناًفرمایا۔(۱)خدا کے کام عجیب ہوتے ہیں لوگ مغرور ہوکر مطمئن ہوجاتے ہیں مگر خدا تعالیٰ پھر پکڑ تا ہے۔(۲) نادان انسان ذرا سی خوشی پر تکبّر سے باتیں کرتا ہے مگر آخر فتح اسی کی ہوتی ہے جس کے ساتھ خدا ہو۔(۳) اسلام نے ہمیشہ نصرانیت کی سر کوبی کی ہے اور اب وہ وقت ہے کہ ان کے عقائد کی پردہ دری ہوگئی ہے اور اس کے بعد کسی کوحوصلہ نہ ہوگا کہ انسان کے بچہ کوخدا بنائے۔فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے وفادار اور مطیع فرمان تھے کہ کسی نبی کے شاگردوں میں ایسی نظیر نہیں ملتی ہے اورخدا کے احکام پر ایسے قائم تھے کہ قرآن شریف ان کی تعریفوں سے بھرا پڑا ہے لکھا ہے کہ جب شراب کی