ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 322

حُرمت کاحکم نافذ ہوا تو جس قدر شراب برتنوں میں تھی وہ گرادی گئی اور کہتے ہیں اس قدر شراب بہی کہ نالیاں بہ نکلیں۔او رپھر کسی سے ایسا فعل شنیع سرزد نہ ہوااور وہ شراب کے پکے دشمن ہوگئے۔دیکھو یہ کیسا ثبات اوراستقلال علی الاطاعۃ تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت جس وفاداری، محبت اور ارادت اور جوش سے انہوںنے کی کبھی کسی نے نہیں کی۔موسیٰ علیہ السلام کی جماعت کے حالات پڑھ کر معلوم ہوتاہے کہ وہ کئی بار پتھراؤکرناچاہتی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری توایسے کمزور اورضعیف الاعتقاد تھے کہ خود عیسائیوں کوتسلیم کرناپڑا ہے اور حضرت مسیحؑآپ انجیل میں سُست اعتقاد ان کانام رکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے استاد کے ساتھ سخت غداری کی اور بے وفائی کا نمونہ دکھایا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں الگ ہوگئے۔ایک نے گرفتارکرادیا دوسرے نے لعنت بھیج کر انکارکر دیا۔مگر صحابہ ایسے ارادت مند اور جاں نثار تھے کہ خود خدا تعالیٰ نے ان کی شہادت دی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جانوں تک دینے میںدریغ نہیں کیا۔اور ہر صفت ایمان کی ان میں پائی جاتی ہے۔عابد، زاہد، سخی، بہادر اور وفادار یہ شرائط ایمان کی کسی دوسری قوم میں نہیں پائی جاتیں۔جس قدر مصائب اور تکالیف صحابہ کو ابتدائے اسلام میںاٹھانی پڑیں ان کی نظیر بھی کسی اور قوم میں نہیںملتی اس بہادر قوم نے ان مصیبتوں کو برداشت کرناگوارا کیا لیکن اسلام کو نہیں چھوڑا۔ان مصیبتوں کی انتہاآخراس پر ہوئی کہ ان کووطن چھوڑنا پڑا اور نبی کریم ؐ کے ساتھ ہجرت کرنی پڑی اور جب خدا تعالیٰ کی نظر میں کفار کی شرارتیں حد سے تجاوز کر گئیں اور وہ قابل سزا ٹھہر گئیں تو خدا تعالیٰ نے انہیں صحابہ کو مامور کیا کہ اس سرکش قوم کو سزا دیں۔چنانچہ اس قوم کوجو مسجدوں میںدن رات اپنے خدا کی عبادت کرتی تھی اورجس کی تعداد بہت تھوڑی تھی۔جس کے پاس کوئی سامان جنگ نہ تھا مخالفوں کے حملوں کے روکنے کے واسطے میدان جنگ میں آناپڑا۔اسلامی جنگیں دفاعی تھیں۔پھر ان جنگوں میں یہ چند سوکی جماعت کئی کئی ہزار کے مقابلہ میں آئی اور ایسی بہادری اور وفاداری سے لڑی۔اگرحواریوں کو اس قسم کاموقع پیش آتا توان میں سے ایک بھی آگے نہ ہوتا۔ایک ذرا سے ابتلا پر وہ اپنے آقا کوچھوڑ کر الگ ہوگئے توایسے معرکوں میں ان کاٹھہرنا ایک ناممکن بات