ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 320

بھی ہے سَلْمَانُ مِنَّا اَھْلَ الْبَیْتِ اسی نام سے مجھے اہل بیت میں داخل کیا ہے داخل کرنا اور بات ہے اور ہونا اور۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیار ہے اہل فارس کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ بیت اور قریش سے ٹھہرایا ہے ا س لئے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلام سے قریش اور اہلِ بیت میں ہوں۔اس پر حضرت حکیم الامۃ نے یُسْلَبُ الْمُلْکُ مِنْ قُرَیْشٍ کا ذکر کر کے عرض کیا کہ حضور ہم قریشیوں سے ملک چھینا گیا مگر کسی نے ہماری قوم سے غور نہیں کی کہ کیوں ایسا ہوا۔تکبّر کا اتنا بڑا خطرناک مرض ہماری قوم میں ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔سید کی لڑکی کسی دوسرے کے گھر میں دینا کفر سمجھا گیا ہے۔اس پر میر صاحب نے کہا کہ ہم سے کوئی پوچھاکرتا ہے تواس کو یہی جواب دیا کرتے ہیں کہ حضرت امام حسن اور امام حسین رضی اللہ عنہما کی ایک بہن تھی کوئی ہمیں بتائے کہ وہ کس سیدکودی گئی تھی۔بروز کی حقیقت پھر بروز کے متعلق سلسلہ کلام یوں شروع ہوا۔فرمایا۔نیکوں کے اور بدوں کے بروزہوتے ہیں۔نیکوںکے بروزمیں جو موعود ہے وہ ایک ہی ہے یعنی مسیح موعود۔ہمار اعقیدہ یہ ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ( الفاتـحۃ : ۶،۷ ) سے نیکوں کا بروز او ر ضالین سے عیسائیوں کابروز اور مغضوب سے یہودیوں کا بروز مُراد ہے اور یہ عالم بروزی صفت میں پیدا کیا گیا ہے جیسے پہلے نیک یابد گذرے ہیں ان کے رنگ اور صفات کے لوگ اب بھی ہیں۔خدا تعالیٰ ان اخلاق اور صفات کو ضائع نہیں کرتا۔ان کے رنگ میں اور آجاتے ہیں جب یہ اَمر ہے تو ہمیں اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ ابراراور اخیار اپنے اپنے وقت پر ہوتے رہیںگے۔اور یہ سلسلہ قیامت تک چلاجاوے گا جب یہ سلسلہ ختم ہوجاوے گاتو دنیا کابھی خاتمہ ہے لیکن وہ موعود جس کے سپرد عظیم الشان کام ہے وہ ایک ہی ہے کیونکہ جس کاوہ بروزہے یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ بھی ایک ہی ہے۔