ملفوظات (جلد 3) — Page 292
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۲ جلد سوم کو لکھ دیا ہے کہ یہ بالکل غلط ہے صرف چند ایک اموات چوڑھوں میں ہوئی ہیں سوان کا باعث بھی مشکوک ہے۔ کچھ ڈنگر مرے تھے وہ چوڑھوں نے کھائے پھر جن لوگوں نے ان کو کھا یا وہی ، کھایا مرے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ طاعون سے مرے۔ پھر تین صاحبوں نے حضرت اقدس سے بیعت کی جس میں ایک صاحب آخرین کا اخلاص سید اختر الدین احمد ساکن کٹک بنگال بھی تھے ۔ مولوی عبد الکریم صاحب نے احمد حسین صاحب آمده از کٹک کی طرف سے ایک کرنسی نوٹ اور کچھ زیورات حضرت کی خدمت میں پیش کئے ۔ زیورات ان صاحب کی اہلیہ مرحومہ کی طرف سے تھے کہ جس کی وصیت تھی کہ یہ خاص حضرت اقدس کی خدمت میں دینی خدمت کے لئے دیئے جاویں حضرت اقدس نے ان کے اخلاق کی تعریف کی اور فرمایا کہ خدا ان کو آخَرِينَ مِنْهُمُ میں ملاوے۔ لے الحکم میں ۲۱ اکتوبر ۔ دربار شام کے زیر عنوان اس کی تفصیل یوں درج ہے۔ کٹک سے دو بھائی آئے ہوئے ہیں ان میں سے ایک نے نہایت اخلاص سے اپنی مرحومہ بیوی کا زیور حضور میں پیش کیا ہے کیونکہ مرحومہ اس کی وصیت کر گئی تھی ۔ مولوی نور الدین صاحب حکیم الامت ۔ نے اس پر عرض کیا کہ بڑے ہی اخلاص اور شہادت کا نشان ہے۔ رض فرمایا ۔ اخَرِينَ مِنْهُمُ سے کہہ کر جو خدا تعالیٰ اس جماعت کو صحابہ سے ملاتا ہے تو صحابہ کا سا اخلاص اور وفاداری اور ارادت ان میں بھی ہونی چاہیے۔ صحابہؓ نے کیا کیا جس طرح پر انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کو دیکھا اسی طریق کو انہوں نے اختیار کر لیا یہاں تک کہ اس کی راہ میں جانیں دے دیں وہ جانتے تھے کہ بیویاں بیوہ ہوں گی بچے یتیم رہ جائیں گے لوگ ہنسی کریں گے مگر انہوں نے اس امر کی ذرہ پروانہ کی ۔ انہوں نے سب کچھ گوارا کیا مگر اس ایمان کے اظہار سے نہ رکے جو وہ اللہ اور اس کے رسول پر لائے تھے حقیقت میں ان کا ایمان بڑا قوی تھا اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اب دیکھ لو کہ ایک تو وہ گروہ تھا جس نے اپنی جانوں کو خدا کی راہ میں کچھ چیز نہ سمجھا اور ایک عیسائی ہیں جو مسیح کے کفارہ پر ناز کرتے ہیں اور ایک جان دینے پر گھمنڈ کرتے ہیں حالانکہ وہ بھی غلط نکلی ہے۔ مقابلہ کر کے دیکھو کہ صحابہؓ کی وفاداری اور استقلال جانوں کے دینے میں کیا تھا اور خود مسیح کا کیسا ؟“ رض الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰ مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳)