ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 291

سے نہ ملے ان کو جانے دو۔پھر مولوی غلام قادر صاحب بھیروی کے ذکر اذکار دیگر احباب کرتے رہے کہ وہ وہابیوں کے سخت دشمن ہیں بلکہ ایک دفعہ میاں نجم الدین نے جب آپ کی بیعت کی تو اس نے طعنہ مارا کہ دیکھو تم نے وہی بات مانی جو ہم منواتے تھے اور اس نے حضور کی مخالفت میں کبھی نہ قلم اٹھایا نہ زبان کھولی بلکہ وہ اس سلسلہ کو اس لئے پسند کرتا ہے کہ وہابیوں کی خوب خبر لی۔پیشہ وروں کی ناز نمائی پر فرمایا کہ یہ لوگ ناز نمائی بغیر رہ نہیں سکتے، ضرور کرتے ہیں۔(بوقتِ مغرب) وَسِّعْ مَکَانَکَ اذان سے پیشتر ہی حضرت اقدس بالائی مسجد میں تشریف لے آئے اور جس مکان کی خرید کے متعلق حضور نے کشتی نوح میں اشتہار دیا ہے اس کا ذکر کرتے رہے کہ توسیع مکان کی بہت ضرورت ہے جہاں تک ہو سکے جلدی فیصلہ کرنا چاہیے۔پھر اذان ہوئی اور نماز ادا کر کے حضرت اقدسؑ حسبِ معمول شہ نشین پر جلوہ افروز ہوئے۔ایک خط اخبارِ عام کے کار پردازوں کی طرف سے حضرت اقدس کی خدمت میں آیا تھا جس کا راقم ایک شخص رحمت مسیح نامی بٹالہ سے تھا۔اس خط میں لکھا تھا کہ قادیان میں سخت طاعون پھوٹی ہے دھڑا دھڑ لوگ مَر رہے ہیں۔مرزا صاحب کی جماعت بھی بہت طاعون سے تباہ ہو چکی ہے خود مرزا صاحب بھی مبتلائے طاعون ہیں وغیرہ وغیرہ۔اخبار عام نے اس خط کو بجنسہٖ حضرت اقدسؑ کے پاس تصدیق کے لئے روانہ کر دیا تھا۔اس کا ذکر حضرت اقدس نے کیا۔راقم خط کے متعلق کہا کہ حُسنِ ظنی بعض لوگ شریر فتنہ پر دازی سے ایسا کرتے ہیں کہ ایک خط لکھ کر دوسرے مخالف کا نام اس پر لکھ دیا کرتے ہیں اس لئے کیا معلوم کہ کس کا لکھا ہوا ہے۔میں نے اخبارِ عام