ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 293 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 293

صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کا مقام صحابہ کرام کے ذکر پر فرمایا کہ شیعہ سبّ و شتم تو کرتے ہیں مگر ان (صحابہؓ ) کا کام دیکھو کہ جیسے خدا کی مرضی تھی ویسے ہی اسلام کو پھیلا کر دکھا دیا۔خوب جانتے تھے کہ بیویاں مَریں گی، بچے ذبح ہوں گے اور ہر ایک قسم کی تکلیف شدید ہو گی مگر پھر بھی خداکے کام سے منہ نہ پھیرا۔یہی فقرہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک جماعت وہ ہے کہ اپنا نحب (ذمہ)ادا کر چکے ہیں جیسے مِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ (الاحزاب : ۲۴) کیسا سرٹیفکیٹ ہے کہ بعض نے میری راہ پر جان دی۔ایک جان وہ ہے جس پر عیسائی بھڑک رہے ہیں اور پیچھے سے معلوم ہوا کہ وہ بھی نہیں دی گئی۔استغفار کی حقیقت ہم نے تحقیق کر لی ہے کہ استغفار کے یہ معنے ہیں کہ انسانی قویٰ جو کرتوت کر رہے ہیں ان کا افراط اور تفریط یعنی بے محل استعمال نافرمانی ہوتا ہے تو خدا کا لُطف و کرم مانگنا کہ تو رحم کر اور ان کے استعمال کی افراط تفریط سے محفوظ رکھ یعنی اﷲ تعالیٰ سے امداد طلب کرنی ہے۔مسیحؑبھی خدا کی مدد کے محتاج تھے اگر کوئی اس طرح نہیں سمجھتا تو وہ مسلمان نہیں۔بڑا فنا فی اﷲ وہ ہے جو کہ ہر آن میں خدا کی امداد چاہتا ہے جیسے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ (الفاتـحۃ : ۵)۔پھر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے اپی فینی ایک انگریزی عیسائی پرچہ میں سے حضرت اقدس کو ایک مضمون سنایا جو کہ ایک مسلمان کی قلم سے استغفار کے متعلق نکلا ہوا تھا جس میں اس نے اپنی نادانی سے ایک عیسائی کو یہ جواب دیا تھا کہ استغفار کا حکم آنحضرت کی طرف منسوب نہیں ہے بلکہ اس سے اُمّت مقصود ہے کہ آپ کی اُمت استغفار کرے۔اس مضمون پر اس عیسائی پرچہ کے ایڈیٹر نے اس پر اعتراض کیا ہوا تھا کہ اگر یہ حکم رسول اﷲؐ کو اس لئے ہوا کہ اُمّت کو تعلیم دیں تو اُمّت کے روبرو پڑھ کر سنا دینا کافی تھا مگر ایک دن میں ستّر ستّر اور سو سوبار استغفار کرنے اور پھر تنہائی میں کرنے سے کیا فائدہ تھا؟ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ لوگ نادانی سے نہیں سمجھتے۔اس مسلمان شخص نے تو خود عیسائیوں کو اعتراض کاموقع دے دیا ہے