ملفوظات (جلد 3) — Page 284
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۴ جلد سوم کا فیصلہ ہو۔ تم کہتے ہو کہ مسیح کلمتہ اللہ ہے ہم کہتے ہیں ہمیں خدا نے اس سے بھی زیادہ درجہ دیا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ مسلمان تم کو کافر کہتے ہیں تو دیکھو تم کو رومن کیتھولک کا فر کہتے ہیں اور تم ان کو کافر کہتے ہو اور ڈوئی سب کو کافر کہتا ہے۔ میرے پاس تو خدا کی گواہی اور اس کے نشانات ہیں نہ کسوف و خسوف تھا نہ جماعت تھی ، نہ اس کی ترقی تھی ، نہ طاعون تھی ۔ یہ سب باتیں مجھے قبل از وقت بتلائی گئیں ۔ اس ملک پر اتفاقا افلاس کا سخت صدمہ آیا اور اس سے بہت بھوکے اور خبیث طبع لوگ جو نرے روٹی کے طالب تھے اس عیسائی فرقہ میں چند روپیوں کے لالچ سے شامل ہو گئے ۔ اب یہ معلوم ہوتا ہے کہ دانیال اور حز قیل نبی کی کتابوں سے یہ پایا جاتا ہے کہ یہ ایک آخری جنگ ہے جو کہ شیطان کی لڑائی کہلاتی ہے اور خود شیطان نے تو لڑائی کرنی نہیں بلکہ انہی لوگوں کے ذریعہ سے ہورہی ہے۔ پس ایسی لڑائیوں سے یہ ہمارے مخالفین کو خنثہ بنادیویں گے اور آخر بات ہم یہ کو پر ہی آکر پڑے گی۔ ان ہمارے مخالفوں کا یہ مذہب ہے کہ کلمتہ اللہ، روح اللہ خالق اور مس شیطان سے بری اور آسمان سے دوبارہ دنیا میں واپس آنے والا یہ سب صفات حضرت مسیح ہی میں ہیں۔ کمبخت ! خدا جانے کہاں کے کہاں چلے جاتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ ع آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنها داری پھر یہ مصرعہ تو حضرت مسیح کے بارہ میں لکھنا چاہیے نہ کہ آنحضرت پر۔ اور ان لوگوں کے خیال کے موافق آنحضرت تو قتل دجال سے دست بردار ہو گئے کیونکہ مسیح نے آکر قتل جو کرنا ہوا اول حصہ بھی مسیح کا ہوا اور آخر حصہ بھی مسیح کا۔ ابتدا میں کلمہ تھا اور کلمہ خدا کا کلام تھا وغیرہ وغیرہ یہ سب الحاقی عبارتیں ہیں۔ ان کے پاس الحاقی عبارتیں ہوئیں اور ہمارے پاس اصل ۔ آخر پر ان کا یہی جواب ہوتا ہے کہ مرزائیوں سے بات نہ کرو۔ ایک درخت کی چھوٹی اور کمزور شاخ تو ایک چڑیا کو بھی ناز سے اپنے اوپر بٹھا لیتی ہے لیکن اگر اس کے اوپر مور بیٹھنا چاہے تو ایک سیکنڈ کے لئے برداشت نہیں کر سکتی ۔ زمانہ اور قرائن کے لحاظ سے دیکھو کہ جو باتیں تم مسیح پر چسپاں کرتے ہو وہ پورے طور پر ہم پر