ملفوظات (جلد 3) — Page 285
چسپاں ہوتی ہیں۔قیمتی پیشگوئیاں آمد ثانی پر تھیں وہ سارے کا سارا تھیلا ہم نے چھین لیا۔آمد اوّل میں تو ساری ذلّت اور مار کھانے والی پیشگوئیاں ہیں اور جلال اور عظمت والی تو آمد ثانی پر تھیں جو کہ ہم کو ملیں۔ایک تفسیری نکتہ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ (الزّخرف : ۸۶) پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔یہ بات واقعی ہے اور قرآن کریم سے بھی ثابت ہے کہ ساعت سے اس جگہ مُراد یہودیوں کی تباہی کا زمانہ ہے وہ وہی زمانہ تھا اور جس ساعت کے یہ لوگ منتظر ہیں اس کا تو ابھی تک کہیں پتہ بھی نہیں ہے ایک پہلوسے اوّل مسیح کے وقت یہودیوں نے بدبختی لے لی اور دوسرے وقت میں نصاریٰ نے بدبختی کا حصہ لے لیا مسلمانوں نے بھی پوری مشابہت یہود سے کرلی۔اگر ان کی سلطنت یا اختیار ہوتا تو ہمارے ساتھ بھی مسیح والا معاملہ کرتے۔نشانوں کے ظہور کا وقت جس طرح کھانگڑ بھینس کا دودھ نکالنا بہت مشکل ہے اسی طرح سے خدا کے نشان بھی سخت تکلیف کی حالت میںاترا کرتے ہیں۔جیسے حضرت موسٰی کو بنی اسرائیل نے کہا تھا اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ ( الشعرآء : ۶۲) وہ ایسا سخت مشکل کا وقت تھا کہ آگے سے بھی اور پیچھے سے بھی ان کو موت ہی موت نظر آتی تھی سامنے سمندر اور پیچھے فرعون کا لشکر۔اس وقت موسٰی نے جواب دیا كَلَّا اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ (الشعرآء: ۶۳) پس ایسی ضرورتوں اور ابتلا کے اوقات میں نشان ظاہر ہوا کرتے ہیں جبکہ ایک قسم کی جان کندنی پیش آجاتی ہے چونکہ خدا کا نام غیب ہے اس لئے جب نہایت ہی اشد ضرورت آبنتی ہے تو اُمورِ غیبیہ ظاہر ہوا کرتے ہیں۔لیکھرام کے قتل کی طرز اور وضع اور وقت اور تاریخ وغیرہ سب کچھ کس صفائی سے بتلایا گیا۔مگر بے ایمانوں کے واسطے تھوڑا ساشبہ اور ایمان والوں کے واسطے تھوڑی سی بات ایمان کے لئے باقی رکھ لی تھی۔بے ایمانی کی بات ہی ہوئی جو کہا کہ شاید ان کی جماعت میں سے کسی نے اس کو قتل کر دیا ہو۔(بعد نمازِ مغرب) بعد ادائے نماز مغرب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حسبِ معمول اجلاس فرماہوئے تو قادیان میں جو