ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 21

کہ وہ بجز مار کھانے اور سختی کے مانتے ہی نہیں۔جو لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام جبرسے پھیلا ہے وہ تو بالکل جھوٹے ہیں کیونکہ اسلامی جنگیں دفاعی اصول پر تھیں، مگر ہاں یہ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے قانون میں یہ بات رکھی ہوئی ہے کہ تیسرے درجہ کے لوگوں یعنی ظالمین کے لیے ایک طریق رکھا ہوا ہے جو بظاہر جبر کہلاتاہے اور ہرنبی کے وقت میں عوام کی ہدایت جبر کے کسی نہ کسی پیرایہ میں ہوئی ہے کیونکہ دُوربین سے دیکھنے والے کامقابلہ مجرد آنکھ سے دیکھنے والا نہیںکرسکتا۔جب استعداد یں مختلف ہیں تو پھر سب کے لیے ایک ہی ذریعہ کیوں کر مفید ہو سکتا ہے۔بڑے مقبول اور مقرب اور رسالت کی سچی خلافت حاصل کرنے والے وہی ہوتے ہیں جو سابق بالخیرات ہوتے ہیں اُن کی مثال حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سی ہے کہ آپ نے کو ئی معجزہ اور نشان طلب نہیںکیا سنتے ہی ایمان لے آئے۔او رحقیقت میں یہ ہے بھی سچ اس لیے کہ جس شخص کو مامور کی اخلاقی حالت کی واقفیت ہو اس کو معجزہ اور نشان کی ہرگز ضرورت نہیں ہوتی۔اسی لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد دلایا کہ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا (یونس : ۱۷ ) سابقین کو تویہ صورت پیش آتی ہے کہ وہ اپنی فراست صحیحہ سے ہی تاڑ جاتے ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب آپؐمدینہ تشریف لے گئے تو بہت سے لوگ آپ کو دیکھنے آئے۔ایک یہودی بھی آیا اور اس سے جب لوگوں نے پوچھا تو اُس نے یہی کہا کہ یہ منہ تو جھوٹوں کا نہیں ہے۔اور مقتصد لوگ وہ ہوتے ہیں جو دلائل اور معجزات کے محتاج ہوتے ہیں اور تیسری قسم ظالمین کی ہے جو سختی سے مانتے ہیں۔جیسے موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کبھی طاعون سے اور کبھی زلزلہ سے ہلاک ہوئے اور دوسروں کے لیے عبرت گاہ بنے۔یہ ایک قسم کا جبر ہے جو اس تیسری قسم کے لیے خدا تعالیٰ نے رکھا ہوا ہے اور سلسلہ نبوت میں یہ لازمی طور پر پایا جاتاہے۔مامور من اللہ شفیع ہوتا ہے مامور من اللہ کی دعاؤں کا کُل جہان پر اثر ہوتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کا ایک باریک قانون ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا