ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 22

جن لوگوں نے شفیع کے مسئلہ سے انکار کیا ہے انہوں نے سخت غلطی کھائی ہے۔شفیع کو قانونِ قدرت چاہتا ہے۔اُس کو ایک تعلق شدید خدا تعالیٰ سے ہوتا ہے اور دوسرا مخلوق سے۔مخلوق کی ہمدردی اس میںاس قدر ہوتی ہے کہ یوںکہناچاہیے کہ اُس کے قلب کی بناوٹ ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمدردی کے لیے جلد متأثرہو جاتا ہے اس لیے وہ خدا سے لیتا ہے اور اپنی عقد ہمت اور توجہ سے مخلوق کو پہنچاتا ہے اور اپنا اثر اُس پر ڈالتا ہے۔اور یہی شفاعت ہے۔انسان کی دعااور توجہ کے ساتھ مصیبت کارفع ہونا یا معصیت اور ذنوب کا کم ہونا یہ سب شفاعت کے نیچے ہے۔توجہ سب پر اثر کرتی ہے خواہ مامور کو اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کانام بھی یاد ہونہ ہو۔۱ مامور کی صحبت شریعت کی کتابیں حقائق اور معارف کا ذخیرہ ہوتی ہیں۔لیکن حقائق اور معارف پر کبھی پوری اطلاع نہیںمل سکتی جب تک صادق کی صحبت اخلاص او رصدق سے اختیار نہ کی جاوے۔اسی لیے قرآن شریف فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِيْنَ(التّوبۃ: ۱۱۹ ) اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایمان اور اتقا کے مدارج کامل طور پر کبھی حاصل نہیں ہوسکتے جب تک صادق کی معیت اور صحبت نہ ہو کیونکہ اس کی صحبت میں رہ کر وہ اس کے انفاسِ طیبہ، عقد ِہمت اور توجہ سے فائدہ اُٹھاتاہے۔قبول ہونے والی دعا کا راز دعاجب قبول ہونے والی ہوتی ہے تو اللہ اس کے لیے دل میں ایک سچا جوش اور اضطراب پیدا کر دیتا ہے او ربسا اوقات اللہ تعالیٰ خود ہی ایک دعا سکھاتا ہے اور الہامی طور پر اس کا پیرایہ بتادیتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ (البقرۃ: ۳۸ ) اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے راستباز بندوں کو قبول ہونے والی دعا ئیں خود الہاماً سکھادیتا ہے۔بعض وقت ایسی دعا میں ایسا حصہ بھی ہوتا ہے جس کو دعا کرنے والا ناپسند کرتا ہے مگر وہ قبول