ملفوظات (جلد 3) — Page 20
پر کھولے ہوئے ہیں کہ دو زرد چادروں سے مُراد دو بیماریاں ہیں جو مجھے لاحقِ حال ہیں۔آداب ِتبلیغ دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں عوام، متوسط درجے کے، اُمراء۔عوام عموماً کم فہم ہوتے ہیں۔اُن کی سمجھ موٹی ہوتی ہے۔اس لیے اُن کو سمجھانا بہت ہی مشکل ہوتاہے۔اُمراء کے لیے سمجھانا بھی مشکل ہوتاہے کیونکہ وہ نازک مزاج ہوتے ہیں اور جلد گھبرا جاتے ہیں اور اُن کا تکبّر اور تعلّی اور بھی سدِّ راہ ہوتی ہے۔اس لیے اُن کے ساتھ گفتگوکرنے والے کو چاہیے کہ وہ اُن کے طرز کے موافق اُن سے کلام کرے یعنی مختصر مگر پورے مطلب کو ادا کرنے والی تقریر ہو قَلَّ وَ دَ لَّ۔مگر عوام کو تبلیغ کرنے کے لیے تقریر بہت ہی صاف اور عام فہم ہونی چاہیے۔رہے اوسط درجہ کے لوگ زیادہ تر یہ گروہ اس قابل ہوتاہے کہ ان کو تبلیغ کی جاوے۔وہ بات کو سمجھ سکتے ہیں اور اُن کے مزاج میں وہ تعلّی اور تکبّر اور نزاکت بھی نہیں ہوتی جو اُمراء کے مزاج میں ہوتی ہے اس لیے ان کوسمجھانا بہت مشکل نہیں ہوتا۔بعثت انبیاء پر لوگ کس طرح ہدایت پاتے ہیں جب انبیاء علیہم السلام مامور ہوکر دنیا میں آتے ہیں تو لوگ تین ذریعوںسے ہدایت پاتے ہیں۔یہ اس لیے کہ تین ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ظالم، مقتصد اور سابق بالخیرات۔اوّل درجے کے لوگ تو سابق بالخیرات ہوتے ہیں جن کو دلائل اور معجزات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔وہ ایسے صاف دل اور سعید ہوتے ہیں کہ مامور کے چہرہ ہی کو دیکھ کراس کی صداقت کے قائل ہو جاتے ہیںاور اُس کے دعویٰ کو ہی سُن کر اس کو برنگ دلیل سمجھ لیتے ہیں۔اُن کی عقل ایسی لطیف واقع ہوئی ہوئی ہوتی ہے کہ وہ انبیاء کی ظاہری صورت اور اُن کی باتوں کو سن کر قبول کرلیتے ہیں۔دوسرے درجہ کے لوگ مقتصدین کہلاتے ہیںجو ہوتے تو سعید ہیں مگر اُن کو دلائل کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ شہادت سے مانتے ہیں۔تیسرے درجہ کے لوگ جو ظالمین ہیں ان کی طبیعت اور فطرت کچھ ایسی وضع پر واقع ہوتی ہے